Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Firaq Gorakhpuri's Photo'

فراق گورکھپوری

1896 - 1982 | الہٰ آباد, انڈیا

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

ممتاز ترین قبل از جدید شاعروں میں نمایاں، جنہوں نے جدید شاعری کے لئے راہ ہموار کی۔ اپنے بصیرت افروز تنقیدی تبصروں کے لئے معروف۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز

فراق گورکھپوری

غزل 71

نظم 8

اشعار 182

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

کافی عرصے سے تمہاری یاد بھی دل میں نہیں اُبھری۔

لیکن یہ بھی سچ نہیں کہ میں نے تمہیں بھلا دیا ہو۔

اس شعر میں ایک نرم سی دوہری کیفیت ہے: یاد نہ آنا اور بھول جانا ایک بات نہیں۔ کہنے والا اعتراف کرتا ہے کہ مدتوں خیال نہیں آیا، مگر رشتہ دل سے کٹا نہیں۔ غیاب اور بےحسی کے باوجود محبت کی ہلکی سی ڈور باقی رہتی ہے۔

شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

شام کی فضا دھندلی اور دھوئیں جیسی تھی، اور حسن بھی بجھا بجھا سا اداس تھا۔

دل میں کئی پرانی باتیں کہانیوں کی طرح یوں یاد آئیں کہ بس آ کر ٹھہر گئیں۔

یہ شعر بیرونی منظر اور اندرونی کیفیت کو ایک کر دیتا ہے: دھواں دھواں شام دل کی دھند اور بوجھل پن کی علامت ہے۔ “حسن” کا اداس ہونا بتاتا ہے کہ دل کو خوشی دینے والی چیزیں بھی بے رنگ لگ رہی ہیں۔ اسی عالم میں بہت سی ادھوری یادیں/کہانیاں دل میں جاگتی ہیں اور رخصت نہیں ہوتیں، بس ایک خاموش کسک بن کر رہ جاتی ہیں۔

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

ہم اُن قدموں کی آہٹ بہت پہلے ہی سے سمجھ لیتے ہیں۔

اے زندگی، ہم تجھے دور ہی سے پہچان لیتے ہیں۔

شاعر کہتا ہے کہ تجربے نے اتنی سمجھ دے دی ہے کہ آنے والی چیز کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ “قدموں کی آہٹ” زندگی کے مسائل، اس کی سختیاں اور اس کے معمولات کی علامت ہے۔ زندگی کو مخاطب کر کے وہ بتاتا ہے کہ اب وہ اسے پہچاننے میں دھوکا نہیں کھاتا۔ لہجہ تھکا ہوا بھی ہے اور بے حد واقفیت بھرا بھی۔

تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو

تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں

تم سامنے ہو اور میں تمہیں براہِ راست مخاطب بھی کر سکتا ہوں۔

اب سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں دیکھتا رہوں یا تم سے بات شروع کروں۔

اس شعر میں محبوب کی قربت کے باوجود ایک لطیف سی جھجک اور کشمکش ہے۔ عاشق کے لیے دیکھنا بھی لذت ہے اور بات کرنا بھی خواہش، مگر بات چھیڑنے میں ڈر ہے کہ کہیں کیفیت ٹوٹ نہ جائے۔ اسی لیے وہ لمحۂ وصال میں خاموشی اور گفتگو کے بیچ معلق رہتا ہے۔

کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں

عشق توفیق ہے گناہ نہیں

اگر کوئی واقعی سمجھنے والا ہو تو میں ایک بات کہہ دوں۔

عشق گناہ نہیں، اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق ہے۔

شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔

اقوال 26

کتابوں کی دنیا مردوں اور زندوں دونوں کے بیچ کی دنیا ہے۔

  • شیئر کیجیے

وہی شاعری امر ہوتی ہے یا بہت دنوں تک زندہ رہتی ہے جس میں زیادہ سے زیادہ لفظ ایسے آئیں جنہیں ان پڑھ لوگ بھی جانتے اور بولتے ہیں۔

  • شیئر کیجیے

سوز و گداز میں جب پختگی آجاتی ہے تو غم، غم نہیں رہتا بلکہ ایک روحانی سنجیدگی میں بدل جاتا ہے۔

  • شیئر کیجیے

خوش نصیب سے خوش نصیب عاشق کو عشقیہ نغمے سہارا دیتے ہیں۔ پوری انسانی تہذیب و تمدن، تمام خارجی طمطراق کے باوجود فنون لطیفہ کی محتاج ہے۔

  • شیئر کیجیے

زبان شعور کا ہاتھ پیر ہے۔

  • شیئر کیجیے

رباعی 61

قصہ 21

مضمون 13

کتاب 124

تصویری شاعری 21

ویڈیو 35

This video is playing from YouTube

ویڈیو کا زمرہ
کلام شاعر بہ زبان شاعر

فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

ہر ساز سے ہوتی نہیں یہ دھن پیدا

فراق گورکھپوری

آدھی رات

۱ فراق گورکھپوری

ہر ساز سے ہوتی نہیں یہ دھن پیدا

فراق گورکھپوری

آڈیو 26

تمہیں کیوں_کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں

جنون_کارگر ہے اور میں ہوں

جور_و_بے_مہری_اغماض پہ کیا روتا ہے

Recitation

متعلقہ بلاگ

 

متعلقہ شعرا

"الہٰ آباد" کے مزید شعرا

Recitation

بولیے