تمام
تعارف
غزل71
نظم8
شعر182
ای-کتاب124
ٹاپ ٢٠ شاعری 20
تصویری شاعری 21
اقوال26
آڈیو 26
ویڈیو 35
رباعی61
قصہ21
مضمون13
گیلری 6
طنز و مزاح1
بلاگ4
دیگر
ترجمہ11
فراق گورکھپوری
غزل 71
نظم 8
اشعار 182
ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
کافی عرصے سے تمہاری یاد بھی دل میں نہیں اُبھری۔
لیکن یہ بھی سچ نہیں کہ میں نے تمہیں بھلا دیا ہو۔
اس شعر میں ایک نرم سی دوہری کیفیت ہے: یاد نہ آنا اور بھول جانا ایک بات نہیں۔ کہنے والا اعتراف کرتا ہے کہ مدتوں خیال نہیں آیا، مگر رشتہ دل سے کٹا نہیں۔ غیاب اور بےحسی کے باوجود محبت کی ہلکی سی ڈور باقی رہتی ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
شام کی فضا دھندلی اور دھوئیں جیسی تھی، اور حسن بھی بجھا بجھا سا اداس تھا۔
دل میں کئی پرانی باتیں کہانیوں کی طرح یوں یاد آئیں کہ بس آ کر ٹھہر گئیں۔
یہ شعر بیرونی منظر اور اندرونی کیفیت کو ایک کر دیتا ہے: دھواں دھواں شام دل کی دھند اور بوجھل پن کی علامت ہے۔ “حسن” کا اداس ہونا بتاتا ہے کہ دل کو خوشی دینے والی چیزیں بھی بے رنگ لگ رہی ہیں۔ اسی عالم میں بہت سی ادھوری یادیں/کہانیاں دل میں جاگتی ہیں اور رخصت نہیں ہوتیں، بس ایک خاموش کسک بن کر رہ جاتی ہیں۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں
تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں
ہم اُن قدموں کی آہٹ بہت پہلے ہی سے سمجھ لیتے ہیں۔
اے زندگی، ہم تجھے دور ہی سے پہچان لیتے ہیں۔
شاعر کہتا ہے کہ تجربے نے اتنی سمجھ دے دی ہے کہ آنے والی چیز کی خبر پہلے ہی ہو جاتی ہے۔ “قدموں کی آہٹ” زندگی کے مسائل، اس کی سختیاں اور اس کے معمولات کی علامت ہے۔ زندگی کو مخاطب کر کے وہ بتاتا ہے کہ اب وہ اسے پہچاننے میں دھوکا نہیں کھاتا۔ لہجہ تھکا ہوا بھی ہے اور بے حد واقفیت بھرا بھی۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
- غزل دیکھیے
تم مخاطب بھی ہو قریب بھی ہو
تم کو دیکھیں کہ تم سے بات کریں
تم سامنے ہو اور میں تمہیں براہِ راست مخاطب بھی کر سکتا ہوں۔
اب سمجھ نہیں آتا کہ تمہیں دیکھتا رہوں یا تم سے بات شروع کروں۔
اس شعر میں محبوب کی قربت کے باوجود ایک لطیف سی جھجک اور کشمکش ہے۔ عاشق کے لیے دیکھنا بھی لذت ہے اور بات کرنا بھی خواہش، مگر بات چھیڑنے میں ڈر ہے کہ کہیں کیفیت ٹوٹ نہ جائے۔ اسی لیے وہ لمحۂ وصال میں خاموشی اور گفتگو کے بیچ معلق رہتا ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق توفیق ہے گناہ نہیں
اگر کوئی واقعی سمجھنے والا ہو تو میں ایک بات کہہ دوں۔
عشق گناہ نہیں، اللہ کی عطا کی ہوئی توفیق ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ بات ہر ایک کے بس کی نہیں، جو سمجھ رکھتا ہو وہی اس نکتے تک پہنچے۔ وہ عشق کو الزام اور معصیت کے خانے سے نکال کر “توفیق” یعنی ربّانی عطیہ قرار دیتا ہے۔ یوں عشق کو پاکیزہ اور بلند تجربہ بنا کر سماجی/اخلاقی بدگمانی کی نفی کرتا ہے۔ جذبہ یہ ہے کہ عشق قابلِ ملامت نہیں، قابلِ قدر ہے۔
-
شیئر کیجیے
- تشریح
اقوال 26
رباعی 61
قصہ 21
مضمون 13
کتاب 124
تصویری شاعری 21
تمہیں کیوں_کر بتائیں زندگی کو کیا سمجھتے ہیں سمجھ لو سانس لینا خودکشی کرنا سمجھتے ہیں کسی بدمست کو راز_آشنا سب کا سمجھتے ہیں نگاہ_یار تجھ کو کیا بتائیں کیا سمجھتے ہیں بس اتنے پر ہمیں سب لوگ دیوانہ سمجھتے ہیں کہ اس دنیا کو ہم اک دوسری دنیا سمجھتے ہیں کہاں کا وصل تنہائی نے شاید بھیس بدلا ہے ترے دم بھر کے مل جانے کو ہم بھی کیا سمجھتے ہیں امیدوں میں بھی ان کی ایک شان_بے_نیازی ہے ہر آسانی کو جو دشوار ہو جانا سمجھتے ہیں یہی ضد ہے تو خیر آنکھیں اٹھاتے ہیں ہم اس جانب مگر اے دل ہم اس میں جان کا کھٹکا سمجھتے ہیں کہیں ہوں تیرے دیوانے ٹھہر جائیں تو زنداں ہے جدھر کو منہ اٹھا کر چل پڑے صحرا سمجھتے ہیں جہاں کی فطرت_بیگانہ میں جو کیف_غم بھر دیں وہی جینا سمجھتے ہیں وہی مرنا سمجھتے ہیں ہمارا ذکر کیا ہم کو تو ہوش آیا محبت میں مگر ہم قیس کا دیوانہ ہو جانا سمجھتے ہیں نہ شوخی شوخ ہے اتنی نہ پرکار اتنی پرکاری نہ جانے لوگ تیری سادگی کو کیا سمجھتے ہیں بھلا دیں ایک مدت کی جفائیں اس نے یہ کہہ کر تجھے اپنا سمجھتے تھے تجھے اپنا سمجھتے ہیں یہ کہہ کر آبلہ_پا روندتے جاتے ہیں کانٹوں کو جسے تلووں میں کر لیں جذب اسے صحرا سمجھتے ہیں یہ ہستی نیستی سب موج_خیزی ہے محبت کی نہ ہم قطرہ سمجھتے ہیں نہ ہم دریا سمجھتے ہیں فراقؔ اس گردش_ایام سے کب کام نکلا ہے سحر ہونے کو بھی ہم رات کٹ جانا سمجھتے ہیں