علامہ اقبال

  • 1877-1938
  • لاھور

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' و 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

عظیم اردو شاعر اور 'سارے جہاں سے اچھا...' و 'لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری' جیسے شہرہ آفاق ترانے کے خالق

معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل


لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی


یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں


یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی


تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں


کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے


پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور


چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے


بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی


اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے


خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں


تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ

میں جو سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا


ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کی


نشیمن سیکڑوں میں نے بنا کر پھونک ڈالے ہیں

نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے


مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں


ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں


مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

تو نے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا


میں ہی تو ایک راز تھا سینۂ کائنات میں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا


ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں

عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں


کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم


جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

comments powered by Disqus