بارش پر مشہور ٢٠ اشعار | ریختہ


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


اب بھی برسات کی راتوں میں بدن ٹوٹتا ہے


جاگ اٹھتی ہیں عجب خواہشیں انگڑائی کی

برسات کے آتے ہی توبہ نہ رہی باقی


بادل جو نظر آئے بدلی میری نیت بھی

برسات تھم چکی ہے مگر ہر شجر کے پاس


اتنا تو ہے کہ آپ کا دامن بھگو سکے

چھپ جائیں کہیں آ کہ بہت تیز ہے بارش


یہ میرے ترے جسم تو مٹی کے بنے ہیں

ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم


کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لیے

حیرت سے تکتا ہے صحرا بارش کے نذرانے کو


کتنی دور سے آئی ہے یہ ریت سے ہاتھ ملانے کو

کچے مکان جتنے تھے بارش میں بہہ گئے


ورنہ جو میرا دکھ تھا وہ دکھ عمر بھر کا تھا

کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں


تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو

میں چپ کراتا ہوں ہر شب امڈتی بارش کو


مگر یہ روز گئی بات چھیڑ دیتی ہے

میں کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں


پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

میں وہ صحرا جسے پانی کی ہوس لے ڈوبی


تو وہ بادل جو کبھی ٹوٹ کے برسا ہی نہیں

نکل گئے ہیں جو بادل برسنے والے تھے


یہ شہر آب کو ترسے گا چشم تر کے بغیر

پیاسو رہو نہ دشت میں بارش کے منتظر


مارو زمیں پہ پاؤں کہ پانی نکل پڑے

ساتھ بارش میں لیے پھرتے ہو اس کو انجمؔ


تم نے اس شہر میں کیا آگ لگانی ہے کوئی

شہر کی گلیوں میں گہری تیرگی گریاں رہی


رات بادل اس طرح آئے کہ میں تو ڈر گیا

تمام رات نہایا تھا شہر بارش میں


وہ رنگ اتر ہی گئے جو اترنے والے تھے

تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا


کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے

ٹوٹ پڑتی تھیں گھٹائیں جن کی آنکھیں دیکھ کر


وہ بھری برسات میں ترسے ہیں پانی کے لیے

اس کو آنا تھا کہ وہ مجھ کو بلاتا تھا کہیں


رات بھر بارش تھی اس کا رات بھر پیغام تھا

اس نے بارش میں بھی کھڑکی کھول کے دیکھا نہیں


بھیگنے والوں کو کل کیا کیا پریشانی ہوئی


comments powered by Disqus