info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک


کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے


ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا


آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

درد منت کش دوا نہ ہوا


میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا

ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے


کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے انداز بیاں اور

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن


دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے


بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا


درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا

کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ


شرم تم کو مگر نہیں آتی

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ


پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو


یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا


اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا


ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں


رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج


مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل


جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ


کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق


وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا


اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

comments powered by Disqus