آدمی اور انسان پر 20 مشہور شعر


معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف


ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا


آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی


جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

جانور آدمی فرشتہ خدا


آدمی کی ہیں سیکڑوں قسمیں

آدمی بلبلہ ہے پانی کا


کیا بھروسا ہے زندگانی کا

دنیا پہ ایسا وقت پڑے گا کہ ایک دن


انسان کی تلاش میں انسان جائے گا

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا


مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

گھروں پہ نام تھے ناموں کے ساتھ عہدے تھے


بہت تلاش کیا کوئی آدمی نہ ملا

ہزار چہرے ہیں موجود آدمی غائب


یہ کس خرابے میں دنیا نے لا کے چھوڑ دیا

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفرؔ


آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیئے

خدا سے کیا محبت کر سکے گا


جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں


تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

میرؔ صاحب تم فرشتہ ہو تو ہو


آدمی ہونا تو مشکل ہے میاں

مری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں


میں آدمی ہوں مرا اعتبار مت کرنا

راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے


آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

سب سے پر امن واقعہ یہ ہے


آدمی آدمی کو بھول گیا

سمجھے گا آدمی کو وہاں کون آدمی


بندہ جہاں خدا کو خدا مانتا نہیں

وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر


عادت اس کی بھی آدمی سی ہے

یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں


مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے

ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا


جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا


انسان کائنات کی تخلیق کا سبب ہی نہیں بلکہ شاعری موسیقی اور دیگر فنون لطیفہ کے مرکز میں بھی انسان ہی موجود ہے۔ اردو شاعری خاص طور سے غزل کے اشعار میں انسان اپنی تمام نزاکتوں، نفاستوں اور خباثتوں کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ ہر چند کہ یہ مخلوق ایک معمہ سے کم نہیں لیکن ہم یہاں انسان یا آدمی کے موضوع پر بیس بے حد مقبول اشعار آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔

comments powered by Disqus