آنسو پر20 بہترین شاعری

آنسوؤں کا یہ شعری بیانیہ بہت متنوع ،وسیع اور رنگا رنگ ہے ۔ آنسو صرف آنکھ سے بہنے والا پانی ہی نہیں بلکہ اس کے پیچھے کبھی دکھ اور کبھی خوشی کی جو زبردست کیفیت ہے وہ بظاہر پانی کے ان قطروں کو انتہائی مقدس بنا دیتی ہے ۔ شاعری میں آنسو کا سیاق اپنی اکثر صورتوں میں عشق اور اس میں بھوگے جانے والے دکھ سےوا بستہ ہے ۔ عاشق کس طور پر آنسوؤں کو ضبط کرتا ہے اور کس طرح بالآخر یہ آنسو بہہ کر اس کو رسوا کرتے ہیں یہ ایک دلچسپ کہانی ہے ۔

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

merely because it courses through the veins, I'm not convinced

if it drips not from one's eyes blood cannot be held true

merely because it courses through the veins, I'm not convinced

if it drips not from one's eyes blood cannot be held true

مرزا غالب

ایک آنسو نے ڈبویا مجھ کو ان کی بزم میں

بوند بھر پانی سے ساری آبرو پانی ہوئی

a single tear caused my fall in her company

just a drop of water drowned my dignity

a single tear caused my fall in her company

just a drop of water drowned my dignity

شیخ ابراہیم ذوقؔ

ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہ

میں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھا

ساحر لدھیانوی

تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جانا

کہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرے

لالہ مادھو رام جوہر

آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا

ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

حفیظ جالندھری

وہ عکس بن کے مری چشم تر میں رہتا ہے

عجیب شخص ہے پانی کے گھر میں رہتا ہے

بسمل صابری

اس نے چھو کر مجھے پتھر سے پھر انسان کیا

مدتوں بعد مری آنکھوں میں آنسو آئے

بشیر بدر

مری روح کی حقیقت مرے آنسوؤں سے پوچھو

مرا مجلسی تبسم مرا ترجماں نہیں ہے

مصطفی زیدی

روز اچھے نہیں لگتے آنسو

خاص موقعوں پہ مزا دیتے ہیں

محمد علوی

جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے

جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

معین احسن جذبی

کیا کہوں کس طرح سے جیتا ہوں

غم کو کھاتا ہوں آنسو پیتا ہوں

میر اثر

آنکھوں تک آ سکی نہ کبھی آنسوؤں کی لہر

یہ قافلہ بھی نقل مکانی میں کھو گیا

عباس تابش

اشک غم دیدۂ پر نم سے سنبھالے نہ گئے

یہ وہ بچے ہیں جو ماں باپ سے پالے نہ گئے

میر انیس

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

کلیم عاجز

ہوتی ہے شام آنکھ سے آنسو رواں ہوئے

یہ وقت قیدیوں کی رہائی کا وقت ہے

احمد مشتاق

آنسو ہمارے گر گئے ان کی نگاہ سے

ان موتیوں کی اب کوئی قیمت نہیں رہی

جلیل مانک پوری

پہلے نہائی اوس میں پھر آنسوؤں میں رات

یوں بوند بوند اتری ہمارے گھروں میں رات

شہریار

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے

سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

شکیب جلالی

گھاس میں جذب ہوئے ہوں گے زمیں کے آنسو

پاؤں رکھتا ہوں تو ہلکی سی نمی لگتی ہے

سلیم احمد

اتنے آنسو تو نہ تھے دیدۂ تر کے آگے

اب تو پانی ہی بھرا رہتا ہے گھر کے آگے

میر حسن