٢٠ مشہور زندگی شاعری


معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا


زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں


تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے


اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ


زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا


زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے


ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

میں مے کدے کی راہ سے ہو کر نکل گیا


ورنہ سفر حیات کا کافی طویل تھا

میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میں


یہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے

موت کا بھی علاج ہو شاید


زندگی کا کوئی علاج نہیں

مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی


اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم


ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو


نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

یوں تو مرنے کے لیے زہر سبھی پیتے ہیں


زندگی تیرے لیے زہر پیا ہے میں نے

زندگی اک آنسوؤں کا جام تھا


پی گئے کچھ اور کچھ چھلکا گئے

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب


موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

زندگی شاید اسی کا نام ہے


دوریاں مجبوریاں تنہائیاں

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں


پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

زندگی زندہ دلی کا ہے نام


مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں


comments powered by Disqus