یاد پر 20 مشہور شعر


معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے


دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا


وہ تری یاد تھی اب یاد آیا

جس کو تم بھول گئے یاد کرے کون اس کو


جس کو تم یاد ہو وہ اور کسے یاد کرے

کر رہا تھا غم جہاں کا حساب


آج تم یاد بے حساب آئے

کیا ستم ہے کہ اب تری صورت


غور کرنے پہ یاد آتی ہے

مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں


اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

مجھے یاد کرنے سے یہ مدعا تھا


نکل جائے دم ہچکیاں آتے آتے

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی


مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

تم نے کیا نہ یاد کبھی بھول کر ہمیں


ہم نے تمہاری یاد میں سب کچھ بھلا دیا

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں


کسی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں

اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو


نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے

ان کا غم ان کا تصور ان کی یاد


کٹ رہی ہے زندگی آرام سے

اس کو بھولے تو ہوئے ہو فانیؔ


کیا کروگے وہ اگر یاد آیا

اٹھا لایا ہوں سارے خواب اپنے


تری یادوں کے بوسیدہ مکاں سے

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں


جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

یاد کرنا ہر گھڑی تجھ یار کا


ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا

یاد رکھنا ہی محبت میں نہیں ہے سب کچھ


بھول جانا بھی بڑی بات ہوا کرتی ہے

یاد اس کی اتنی خوب نہیں میرؔ باز آ


نادان پھر وہ جی سے بھلایا نہ جائے گا

یاد ماضی عذاب ہے یارب


چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جانا


ذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھی


comments powered by Disqus