بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے

ظفر اقبال

بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    بظاہر صحت اچھی ہے جو بیماری زیادہ ہے

    اسی خاطر بڑھاپے میں ہوس کاری زیادہ ہے

    چلے گا کس طرح سے کاروبار شوق اس صورت

    رسد کچھ بھی نہیں ہے اور طلب گاری زیادہ ہے

    محبت کام ہے جس طرح کا بس دیکھتے جاؤ

    رکا رہتا بھی ہے اکثر مگر جاری زیادہ ہے

    ہمیں خود بھی یقیں آتا نہیں اس کا جو یہ ہم پر

    گراں باری کی نسبت سے سبکساری زیادہ ہے

    سراغ اس کا کہیں اندر تو کچھ ملتا نہیں بے شک

    یہ حالت وہ ہے جو ہم پر ابھی طاری زیادہ ہے

    اٹھا سکتے نہیں جب چوم کر ہی چھوڑنا اچھا

    محبت کا یہ پتھر اس دفعہ بھاری زیادہ ہے

    حفاظت ہی ہمارا مسئلہ تھا روز اول سے

    سو اپنے ارد گرد اب چار دیواری زیادہ ہے

    عمارت یہ مکمل ہونے والی ہی نہیں لگتی

    کہ اس تعمیر میں کچھ رنگ مسماری زیادہ ہے

    ضروری ہو تو کر دیں گے ظفرؔ تردید بھی جاری

    بیان عشق اپنا اب کے اخباری زیادہ ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY