چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو

عادل منصوری

چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو

    اور اس کے ساتھ حکم کہ اب زندگی کرو

    باہر گلی میں شور ہے برسات کا سنو

    کنڈی لگا کے آج تو گھر میں پڑے رہو

    چھوڑ آئے کس کی چھت پہ جواں سال چاند کو

    خاموش کس لیے ہو ستارو جواب دو

    کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو

    تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو

    جس نے بھی مڑ کے دیکھا وہ پتھر کا ہو گیا

    نظریں جھکائے دوستو چپ چپ چلے چلو

    اللہ رکھے تیری سحر جیسی کمسنی

    دل کانپتا ہے جب بھی تو آتی ہے شام کو

    ویراں چمن پہ روئی ہے شبنم تمام رات

    ایسے میں کوئی ننھی کلی مسکرائے تو

    عادلؔ ہوائیں کب سے بھی دیتی ہیں دستکیں

    جلدی سے اٹھ کے کمرے کا دروازہ کھول دو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    چاروں طرف سے موت نے گھیرا ہے زیست کو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY