دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجود

ظفر اقبال

دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجود

ظفر اقبال

MORE BY ظفر اقبال

    دیکھو تو کچھ زیاں نہیں کھونے کے باوجود

    ہوتا ہے اب بھی عشق نہ ہونے کے باوجود

    شاید یہ خاک میں ہی سمانے کی مشق ہو

    سوتا ہوں فرش پر جو بچھونے کے باوجود

    کرتا ہوں نیند میں ہی سفر سارے شہر کا

    فارغ تو بیٹھتا نہیں سونے کے باوجود

    ہوتی نہیں ہے میری تسلی کسی طرح

    رونے کا انتظار ہے رونے کے باوجود

    پانی تو ایک عمر سے مجھ پر ہے بے اثر

    میلا ہوں جیسے اور بھی دھونے کے باوجود

    بوجھل تو میں کچھ اور بھی رہتا ہوں رات دن

    سامان خواب رات کو ڈھونے کے باوجود

    تھی پیاس تو وہیں کی وہیں اور میں وہاں

    خوش تھا ذرا سا ہونٹ بھگونے کے باوجود

    یہ کیمیا گری مری اپنی ہے اس لیے

    میں راکھ ہی سمجھتا ہوں سونے کے باوجود

    ڈرتا ہوں پھر کہیں سے نکالیں نہ سر ظفرؔ

    میں اس کو اپنے ساتھ ڈبونے کے باوجود

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY