گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

منور رانا

گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

منور رانا

MORE BY منور رانا

    گھر میں رہتے ہوئے غیروں کی طرح ہوتی ہیں

    لڑکیاں دھان کے پودوں کی طرح ہوتی ہیں

    اڑ کے اک روز بہت دور چلی جاتی ہیں

    گھر کی شاخوں پہ یہ چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں

    سہمی سہمی ہوئی رہتی ہیں مکان دل میں

    آرزوئیں بھی غریبوں کی طرح ہوتی ہیں

    ٹوٹ کر یہ بھی بکھر جاتی ہیں اک لمحے میں

    کچھ امیدیں بھی گھروندوں کی طرح ہوتی ہیں

    آپ کو دیکھ کے جس وقت پلٹتی ہے نظر

    میری آنکھیں مری آنکھوں کی طرح ہوتی ہیں

    مآخذ:

    • Book : Shadaba (Pg. 47)
    • Author : Munavar Rana
    • مطبع : Maktaba Al-faheem (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY