کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف

قائم چاندپوری

کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف

قائم چاندپوری

MORE BYقائم چاندپوری

    کر امتحاں ٹک ہو کے تو خونخوار یک طرف

    میں آج یک طرف ہوں ترے یار یک طرف

    انصاف ہے کہ غیر سے صحبت رکھے تو گرم

    بیٹھا رہوں میں مثل گنہ گار یک طرف

    سیکھے ہو کس سے سچ کہو پیارے یہ چال ڈھال

    تم یک طرف چلو ہو تو تلوار یک طرف

    ناز و کرشمہ عشوہ و انداز اور ادا

    میں یک طرف ہوں اتنے ستم گار یک طرف

    کس بات پر تری میں کروں اعتبار ہائے

    اقرار یک طرف ہے تو انکار یک طرف

    دیکھیں پرووے کون بھلا سلک لخت دل

    میں اک طرف ہوں ابر گہربار یک طرف

    قائمؔ ہر ایک کوچہ میں ہے طرفہ تعزیہ

    یوسف ترے کی گرمئ بازار یک طرف

    دلال ایک سمت کو منہ سے ملیں ہیں خاک

    سر پیٹتے پھریں ہیں خریدار یک طرف

    مآخذ :
    • Deewan-e-Qaem Chandpuri (Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY