خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا

منور رانا

خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا

منور رانا

MORE BY منور رانا

    خفا ہونا ذرا سی بات پر تلوار ہو جانا

    مگر پھر خود بہ خود وہ آپ کا گلنار ہو جانا

    کسی دن میری رسوائی کا یہ کارن نہ بن جائے

    تمہارا شہر سے جانا مرا بیمار ہو جانا

    وہ اپنا جسم سارا سونپ دینا میری آنکھوں کو

    مری پڑھنے کی کوشش آپ کا اخبار ہو جانا

    کبھی جب آندھیاں چلتی ہیں ہم کو یاد آتا ہے

    ہوا کا تیز چلنا آپ کا دیوار ہو جانا

    بہت دشوار ہے میرے لیے اس کا تصور بھی

    بہت آسان ہے اس کے لیے دشوار ہو جانا

    کسی کی یاد آتی ہے تو یہ بھی یاد آتا ہے

    کہیں چلنے کی ضد کرنا مرا تیار ہو جانا

    کہانی کا یہ حصہ اب بھی کوئی خواب لگتا ہے

    ترا سر پر بٹھا لینا مرا دستار ہو جانا

    محبت اک نہ اک دن یہ ہنر تم کو سکھا دے گی

    بغاوت پر اترنا اور خود مختار ہو جانا

    نظر نیچی کیے اس کا گزرنا پاس سے میرے

    ذرا سی دیر رکنا پھر صبا رفتار ہو جانا

    مآخذ:

    • Book : Azkar (Pg. 141)
    • Author : Amjad Hussain Hafiz Karnataki
    • مطبع : Karnataka Urdu Academy (issue:23 April,May,June-2013)
    • اشاعت : issue:23 April,May,June-2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY