نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا

شاد عظیم آبادی

نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا

شاد عظیم آبادی

MORE BY شاد عظیم آبادی

    نالوں کی کشاکش سہہ نہ سکا خود تار نفس بھی ٹوٹ گیا

    اک عمر سے تھی تکلیف جسے کل شب کو وہ قیدی چھوٹ گیا

    تھی تیری تمنا کاہش جاں اس درد سے میں دیوانہ تھا

    چھالا تھا دل اپنے سینے میں اے وا اسفا وہ پھوٹ گیا

    سب اپنی ہی اپنی دھن میں پھنسے تیرا تو نہ نکلا کام کوئی

    جو آیا ترے دروازے پر وہ اپنا ہی ماتھا کوٹ گیا

    تابوت پہ میرے آئے جو مٹی میں ملایا یوں کہہ کر

    پھیلا دیے دست و پا اپنے اتنے ہی میں بس جی چھوٹ گیا

    آیا تھا یہی دل میں میرے رندوں ہی پہ کلی بھی پھینکوں

    ساقی کا اشارہ پاتے ہی میں زہر ستم کو گھوٹ گیا

    ہو ہندوئے خال لب تیرا یا ترک نگہہ ہو اے قاتل

    دہلی تھا ہمارا دل شاید جو آیا وہ اس کو لوٹ گیا

    نازک تھا بہت کچھ دل میرا اے شادؔ تحمل ہو نہ سکا

    اک ٹھیس لگی تھی یوں ہی سی کیا جلد یہ شیشہ ٹوٹ گیا

    مآخذ:

    • Book: Dewan-e-shad Azimabadi (Pg. 30)
    • Author: Shad Azimabadi
    • مطبع: Educational Publishing House (2005)
    • اشاعت: 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites