پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

ظفر گورکھپوری

پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

ظفر گورکھپوری

MORE BY ظفر گورکھپوری

    پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو

    خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو

    یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں

    بنا کر بت ہمیں اب خامشی سے چاہتے کیا ہو

    نہ اطمینان سے بیٹھو نہ گہری نیند سو پاؤ

    میاں اس مختصر سی زندگی سے چاہتے کیا ہو

    اسے ٹھہرا سکو اتنی بھی تو وسعت نہیں گھر میں

    یہ سب کچھ جان کر آوارگی سے چاہتے کیا ہو

    کناروں پر تمہارے واسطے موتی بہا لائے

    گھروندے بھی نہیں توڑے ندی سے چاہتے کیا ہو

    چراغ شام تنہائی بھی روشن رکھ نہیں پائے

    اب اور آگے ہوا کی دوستی سے چاہتے کیا ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY