رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

اعتبار ساجد

رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    رستے کا انتخاب ضروری سا ہو گیا

    اب اختتام باب ضروری سا ہو گیا

    ہم چپ رہے تو اور بھی الزام آئے گا

    اب کچھ نہ کچھ جواب ضروری سا ہو گیا

    ہم ٹالتے رہے کہ یہ نوبت نہ آنے پائے

    پھر ہجر کا عذاب ضروری سا ہو گیا

    ہر شام جلد سونے کی عادت ہی پڑ گئی

    ہر رات ایک خواب ضروری سا ہو گیا

    آہوں سے ٹوٹتا نہیں یہ گنبد سیاہ

    اب سنگ آفتاب ضروری سا ہو گیا

    دینا ہے امتحان تمہارے فراق کا

    اب صبر کا نصاب ضروری سا ہو گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY