سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض

سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں

    ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں

    شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ

    جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں

    اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر

    کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

    ہر اک قدم اجل تھا ہر اک گام زندگی

    ہم گھوم پھر کے کوچۂ قاتل سے آئے ہیں

    باد خزاں کا شکر کرو فیضؔ جس کے ہاتھ

    نامے کسی بہار شمائل سے آئے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    RECITATIONS

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    فریدہ خانم

    سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں فریدہ خانم

    مأخذ :
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 240)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY