ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

اعتبار ساجد

ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

اعتبار ساجد

MORE BYاعتبار ساجد

    ترک تعلق کر تو چکے ہیں اک امکان ابھی باقی ہے

    ایک محاذ سے لوٹ آئے ہیں اک میدان ابھی باقی ہے

    شاید اس نے ہنسی ہنسی میں ترک وفا کا ذکر کیا ہو

    یونہی سی اک خوش فہمی ہے اطمینان ابھی باقی ہے

    راتیں اس کے ہجر میں اب بھی نزع کے عالم میں کٹتی ہیں

    دل میں ویسی ہی وحشت ہے تن میں جان ابھی باقی ہے

    بچپن کے اس گھر کے سارے کمرے ملیا میٹ ہوئے

    جس میں ہم کھیلا کرتے تھے وہ دالان ابھی باقی ہے

    دیئے منڈیر پہ رکھ آتے ہیں ہم ہر شام نہ جانے کیوں

    شاید اس کے لوٹ آنے کا کچھ امکان ابھی باقی ہے

    ایک عدالت اور ہے جس میں ہم تم اک دن حاضر ہوں گے

    فیصلہ سن کر خوش مت ہونا اک میزان ابھی باقی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY