وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہر

عادل منصوری

وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہر

عادل منصوری

MORE BYعادل منصوری

    وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہر

    اندھیرے کے پہلو میں سنسان گھر

    کھلیں گے ابھی اور کس کس کے در

    کہاں ختم ہوگا لہو کا سفر

    کچھ اپنے عقائد بھی کمزور تھے

    لرزتے تھے سائے بھی دیوار پر

    اجالے سمٹتے رہے آنکھ میں

    ستارے بکھرتے رہے فرش پر

    بدن میں پگھلتی رہی چاندنی

    لہو میں سلگتی رہی دوپہر

    کبھی خاک والوں کی باتیں بھی سن

    کبھی آسمانوں سے نیچے اتر

    قدم گھر میں رکھتے ہی گھائل ہوا

    گرے ٹوٹ کر مجھ پہ دیوار و در

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے