Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بدن ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے

نسیم اجمل

بدن ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے

نسیم اجمل

MORE BYنسیم اجمل

    بدن ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے

    ذرا گہرا دکھائی دے رہا ہے

    ہر اک گونگا ہے اس کی انجمن میں

    ہر اک بہرا دکھائی دے رہا ہے

    بڑا سنسان سا ہے اس کا کوچہ

    بہت پہرا دکھائی دے رہا ہے

    کبھی اترا تھا یاں میں پانیوں میں

    جہاں صحرا دکھائی دے رہا ہے

    ہے کیسا ماجرا کچھ تم بھی دیکھو

    یہ کیا چہرا دکھائی دے رہا ہے

    ابھی ڈوبا ہی تھا میں آنسوؤں میں

    کہ پھر صحرا دکھائی دے رہا ہے

    مری آواز کے بجھتے دئے میں

    ترا چہرا دکھائی دے رہا ہے

    ہر اک یاں اڑ رہا ہے آندھیوں میں

    مگر ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے

    جہاں محفوظ ساری رونقیں ہیں

    وہیں صحرا دکھائی دے رہا ہے

    کوئی اٹھے گا طوفاں دل زمیں سے

    قدم گہرا دکھائی دے رہا ہے

    کوئی رشتہ نہیں ہے آئنے سے

    مگر چہرا دکھائی دے رہا ہے

    وہ مجھ میں آ گیا میں اس کے اندر

    جہاں ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے

    ذرا چھٹنے تو دو رنگوں کے بادل

    دھواں گہرا دکھائی دے رہا ہے

    ابھی مت چھیڑنا اجملؔ کو دیکھو

    عجب چہرا دکھائی دے رہا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے