بدن ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے
ذرا گہرا دکھائی دے رہا ہے
ہر اک گونگا ہے اس کی انجمن میں
ہر اک بہرا دکھائی دے رہا ہے
بڑا سنسان سا ہے اس کا کوچہ
بہت پہرا دکھائی دے رہا ہے
کبھی اترا تھا یاں میں پانیوں میں
جہاں صحرا دکھائی دے رہا ہے
ہے کیسا ماجرا کچھ تم بھی دیکھو
یہ کیا چہرا دکھائی دے رہا ہے
ابھی ڈوبا ہی تھا میں آنسوؤں میں
کہ پھر صحرا دکھائی دے رہا ہے
مری آواز کے بجھتے دئے میں
ترا چہرا دکھائی دے رہا ہے
ہر اک یاں اڑ رہا ہے آندھیوں میں
مگر ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے
جہاں محفوظ ساری رونقیں ہیں
وہیں صحرا دکھائی دے رہا ہے
کوئی اٹھے گا طوفاں دل زمیں سے
قدم گہرا دکھائی دے رہا ہے
کوئی رشتہ نہیں ہے آئنے سے
مگر چہرا دکھائی دے رہا ہے
وہ مجھ میں آ گیا میں اس کے اندر
جہاں ٹھہرا دکھائی دے رہا ہے
ذرا چھٹنے تو دو رنگوں کے بادل
دھواں گہرا دکھائی دے رہا ہے
ابھی مت چھیڑنا اجملؔ کو دیکھو
عجب چہرا دکھائی دے رہا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.