حق پرستان جہاں برسر باطل ٹھہرے
حق پرستان جہاں برسر باطل ٹھہرے
کس کی ہمت ہے کہ اس بت کے مقابل ٹھہرے
آپ رہبر ہی سہی پھر بھی یہ اصرار ہے کیوں
آپ کی سمت نظر جادۂ منزل ٹھہرے
ہم اگر نام لیں ساحل کا تو گردن زدنی
آپ فرما دیں تو گرداب بھی ساحل ٹھہرے
کیا قیامت ہے کہ وہ لوگ جو خود بسمل تھے
عدل و انصاف کی میزان میں قابل ٹھہرے
ہم سزا وار کرم تھے کہ نہ تھے کیسے کہیں
سینکڑوں ہم میں سے تعزیر کے قابل ٹھہرے
سینکڑوں ہو گئے گم وادیٔ گمنامی میں
صرف دوچار ہی شائستۂ منزل ٹھہرے
کون جانے کہ یہی سوزؔ کی معصوم غزل
ایک انگارہ پئے خرمن باطل ٹھہرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.