حسن پرستی حضرت ناصح آپ کے بس کی بات نہیں
حسن پرستی حضرت ناصح آپ کے بس کی بات نہیں
اپنا اپنا ظرف نظر ہے عشق و ہوس کی بات نہیں
اف وہ اسیر رہائی جس کی بس میں نہیں صیاد کے بھی
قید وفا كا ذکر ہے ہمدم دام و قفس کی بات نہیں
قافلۂ ارباب جنوں میں چھوڑ کے منزل ہم کیوں آئے
وحشت دل کی مجبوری تھی بانگ جرس کی بات نہیں
رحم نہ کیجئے سن تو لیجئے اتنا ستم بھی ٹھیک نہیں
اہل وفا کا افسانہ ہے مور و مگس کی بات نہیں
دل والوں کی سرگردانی گلشن میں بھونروں کی طرح
خون جگر کا افسانہ ہے پھول کے رس کی بات نہیں
مدہوشی کی جو بھی سزا ہو جور فزوں یا ہجر دوام
آپ کے آگے ہوش میں رہنا اپنے بس کی بات نہیں
ہم پہ ستم تو ٹھیک ہے یارب ان کا دشمن کیوں ہے جہاں
لالہ و گل کا حق ہے چمن پر خار و خس کی بات نہیں
وادیٔ ایمن بن سکتی ہے شعلۂ نے سے بزم طرب
سوز سراپا بن جاتا ہے سوز نفس کی بات نہیں
ابر کرم کا ذکر نہ کیجئے آتش غم ہے قسمت سوز
تا دم آخر جلنا ہے دو چار برس کی بات نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.