کیوں ادھر ہی نکل پڑا جائے
جس طرف لے کے راستہ جائے
آ چکے باغ میں تماشائی
بس بہت ہو چکا کھلا جائے
شعر تو روز سنتے رہتے ہیں
آئیے حسن کو پڑھا جائے
تخلیہ چاہتا ہے عشق جناب
آج خاموشی کو سنا جائے
موت کی ایک شکل ہے یہ بھی
نیند کو ٹالتے رہا جائے
کل تھا وقت آپ کے سوالوں کا
اب مجھے پوچھنے دیا جائے
لفظ بے کار کی مصیبت ہیں
کیا لکھا جائے کیا پڑھا جائے
- کتاب : آخری عشق سب سے پہلے کیا (Pg. 37)
- Author :نعمان شوق
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2018)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.