عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں

شہریار

عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں

شہریار

MORE BY شہریار

    عکس کو قید کہ پرچھائیں کو زنجیر کریں

    ساعت ہجر تجھے کیسے جہانگیر کریں

    پاؤں کے نیچے کوئی شے ہے زمیں کی صورت

    چند دن اور اسی وہم کی تشہیر کریں

    شہر امید حقیقت میں نہیں بن سکتا

    تو چلو اس کو تصور ہی میں تعمیر کریں

    اب تو لے دے کے یہی کام ہے ان آنکھوں کا

    جن کو دیکھا نہیں ان خوابوں کی تعبیر کریں

    ہم میں جرأت کی کمی کل کی طرح آج بھی ہے

    تشنگی کس کے لبوں پر تجھے تحریر کریں

    عمر کا باقی سفر کرنا ہے اس شرط کے ساتھ

    دھوپ دیکھیں تو اسے سائے سے تعبیر کریں

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 461)
    • Author: shaharyar
    • مطبع: educational book house (2013)
    • اشاعت: 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites