سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

شہریار

سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

شہریار

MORE BY شہریار

    سیاہ رات نہیں لیتی نام ڈھلنے کا

    یہی تو وقت ہے سورج ترے نکلنے کا

    یہاں سے گزرے ہیں گزریں گے ہم سے اہل وفا

    یہ راستہ نہیں پرچھائیوں کے چلنے کا

    کہیں نہ سب کو سمندر بہا کے لے جائے

    یہ کھیل ختم کرو کشتیاں بدلنے کا

    بگڑ گیا جو یہ نقشہ ہوس کے ہاتھوں سے

    تو پھر کسی کے سنبھالے نہیں سنبھلنے کا

    زمیں نے کر لیا کیا تیرگی سے سمجھوتا

    خیال چھوڑ چکے کیا چراغ جلنے کا

    مآخذ:

    • Book: sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 471)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites