جھوم کر گاؤ میں شرابی ہیں

ساغر صدیقی

جھوم کر گاؤ میں شرابی ہیں

ساغر صدیقی

MORE BYساغر صدیقی

    جھوم کر گاؤ میں شرابی ہوں

    رقص فرماؤ میں شرابی ہوں

    ایک سجدہ بنام مے خانہ

    دوستو آؤ میں شرابی ہوں

    لوگ کہتے ہیں رات بیت چکی

    مجھ کو سمجھاؤ میں شرابی ہوں

    آج ان ریشمی گھٹاؤں کو

    یوں نہ بکھراؤ میں شرابی ہوں

    حادثے روز ہوتے رہتے ہیں

    بھول بھی جاؤ میں شرابی ہوں

    مجھ پہ ظاہر ہے آپ کا باطن

    منہ نہ کھلواؤ میں شرابی ہوں

    مأخذ :
    • کتاب : Nuquush Lahore (Pg. 373)
    • Author : Mohd Tufail
    • مطبع : Idara Farog-e-urdu, Lahore (Feb.1956)
    • اشاعت : Feb.1956

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY