سفر کا خواب تھا آب رواں پہ رکھا تھا
سفر کا خواب تھا آب رواں پہ رکھا تھا
کوئی ستارہ کھلے بادباں پہ رکھا تھا
بھلا گیا ہے مجھے گفتگو کے سارے مزے
بس ایک لفظ تھا پل بھر زباں پہ رکھا تھا
وہ ایک خاک سا منظر بس اب بہت ہے مجھے
اٹھا کے جو کبھی قرطاس جاں پہ رکھا تھا
میں کیا گیا کہ ہوا خشک چشمۂ مہتاب
ابھی تو پہلا قدم آسماں پہ رکھا تھا
اسی کو شاہیںؔ مقرر کیا ہے جائے وصال
کنارۂ شب ہجراں جہاں پہ رکھا تھا
- کتاب : Ishq e Tamam (Pg. 282)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.