سمجھتے ہیں جو کمتر ہر کسی کو
سمجھتے ہیں جو کمتر ہر کسی کو
وہ سمجھیں تو سہی اپنی کمی کو
جہاں میں جز غم و رنج و مصیبت
ملا بھی ہے عزیزو کچھ کسی کو
کہیں بھی تو کہیں اب کیا کسی سے
سنائیں تو سنائیں کیا کسی کو
حقیقت میں نہیں بنتے کسی کے
بناتے ہیں جو اپنا ہر کسی کو
نہ پائے رفتن اب نے جائے معدن
کہاں تک روئیں اپنی بے بسی کو
تعجب ہے سمجھنے پر بھی سب کچھ
نہ سمجھا آدمی نے آدمی کو
ضیائے حضرت انورؔ نے رفعتؔ
جلا بخشی ہے میری شاعری کو
- کتاب : SAAZ-O-NAVA (Pg. 149)
- مطبع : Raghu Nath suhai ummid
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.