ہنسنے رونے سے گئے ربط بڑھانے سے گئے

ایمان قیصرانی

ہنسنے رونے سے گئے ربط بڑھانے سے گئے

ایمان قیصرانی

MORE BYایمان قیصرانی

    ہنسنے رونے سے گئے ربط بڑھانے سے گئے

    ایسی افتاد پڑی سارے زمانے سے گئے

    وہ تعفن ہے کہ اس بار زمیں کے باسی

    اپنے سجدوں سے گئے رزق کمانے سے گئے

    دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو

    کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

    اس قدر قحط وفا ہے مرے اطراف کہ اب

    یار یاروں کو بھی احوال سنانے سے گئے

    اپنا یہ حال کہ ہیں جان بچانے میں مگن

    اور اجداد جو ہیں جان لڑانے میں گئے

    تجھ کو کیا علم کہ ہم تیری محبت کے طفیل

    ساری دنیا سے کٹے سارے زمانے سے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے