Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تیرے آنے کا مرے دوست بھرم رکھا ہے

نوشہ اسرار

تیرے آنے کا مرے دوست بھرم رکھا ہے

نوشہ اسرار

MORE BYنوشہ اسرار

    تیرے آنے کا مرے دوست بھرم رکھا ہے

    وہ مرا دل ہے جہاں تو نے قدم رکھا ہے

    تو ہے ساقی تو مری جان مری پیاس نہ پوچھ

    خم کا خم تو نے جو رکھا ہے یہ کم رکھا ہے

    میری سانسوں میں بسی ہے وہی خوشبو اب تک

    اس نے بھی زلفوں میں اب تک وہی خم رکھا ہے

    دیکھ تو عشق کی شدت کہ تری چاہت میں

    بت شکن نے ترے پتھر کو صنم رکھا ہے

    یوں ہنسی آتی ہے بے بات پہ اکثر ہم کو

    ہم نے سینے میں چھپا کر کوئی غم رکھا ہے

    چاک گردش میں ہے پھر جام نئے ابھریں گے

    ہم نے مٹی کو اسی آس پہ نم رکھا ہے

    فیصلہ جنگ کا اس بار انوکھا ہوگا

    ہم نے تلوار کے بازو میں قلم رکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے