تیرے آنے کا مرے دوست بھرم رکھا ہے
تیرے آنے کا مرے دوست بھرم رکھا ہے
وہ مرا دل ہے جہاں تو نے قدم رکھا ہے
تو ہے ساقی تو مری جان مری پیاس نہ پوچھ
خم کا خم تو نے جو رکھا ہے یہ کم رکھا ہے
میری سانسوں میں بسی ہے وہی خوشبو اب تک
اس نے بھی زلفوں میں اب تک وہی خم رکھا ہے
دیکھ تو عشق کی شدت کہ تری چاہت میں
بت شکن نے ترے پتھر کو صنم رکھا ہے
یوں ہنسی آتی ہے بے بات پہ اکثر ہم کو
ہم نے سینے میں چھپا کر کوئی غم رکھا ہے
چاک گردش میں ہے پھر جام نئے ابھریں گے
ہم نے مٹی کو اسی آس پہ نم رکھا ہے
فیصلہ جنگ کا اس بار انوکھا ہوگا
ہم نے تلوار کے بازو میں قلم رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.