MIR TAQI MIR: Miiriyaat

  • 1722-23-1810
  • Delhi

میر کی ان تمام غزلوں کی اشاعت کے لیے کلیات میر مطبوعہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے متن سے استفادہ کیا گیا ہے۔
جس کے لیے ریختہ فاؤنڈیشن کتاب کے مدونین مرحوم ظل عباس عباسی، جناب شمس الرحمن فاروقی اور جناب احمد محفوظ کا شکرگزار ہے۔

MIRIYAATGHAZAL NO.
ا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا۰۰۰۱
ا کیا میں بھی پریشانی خاطر سے قریں تھا۰۰۰۲
ا نکلے ہے چشمہ جو کوئی جوش زناں پانی کا۰۰۰۳
ا جامۂ مستی عشق اپنا مگر کم گھیر تھا۰۰۰۴
ا اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا۰۰۰۵
ا شب ہجر میں کم تظلم کیا۰۰۰۶
ا الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا۰۰۰۷
ا چمن میں گل نے جو کل دعوی جمال کیا۰۰۰۸
ا دیکھے گا جو تجھ رو کو سو حیران رہے گا۰۰۰۹
ا تا گور کے اوپر وہ گل اندام نہ آیا۰۰۱۰
ا جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا۰۰۱۱
ا منھ تکا ہی کرے ہے جس تس کا۰۰۱۲
ا وہ اک روش سے کھولے ہوئے بال ہوگیا۰۰۱۳
ا بیتاب جی کو دیکھا دل کو کباب دیکھا۰۰۱۴
ا دل بہم پہنچا بدن میں تب سے سارا تن جلا۰۰۱۵
ا حال دل میرؔ کا رو رو کے سب اے ماہ سنا۰۰۱۶
ا جب جنوں سے ہمیں توسل تھا۰۰۱۷
ا آگے جمال یار کے معذور ہوگیا۰۰۱۸
ا فرہاد ہاتھ تیشے پہ ٹک رہ کے ڈالتا۰۰۱۹
ا گل شرم سے بہ جائے گا گلشن میں ہوکر آب سا۰۰۲۰
ا مر رہتے جو گل بن تو سارا یہ خلل جاتا۰۰۲۱
ا سنیو جب وہ کبھو سوار ہوا۰۰۲۲
ا مانند شمع مجلس شب اشکبار پایا۰۰۲۳
ا مارا زمیں میں گاڑا تب اس کو صبر آیا۰۰۲۴
ا شکوہ کروں میں کب تک اس اپنے مہرباں کا۰۰۲۵
ا ہمارے آگے ترا جب کسو نے نام لیا۰۰۲۶
ا سیر کے قابل ہے دل صد پارہ اس نخچیر کا۰۰۲۷
ا شب درد و غم سے عرصہ مرے جی پہ تنگ تھا۰۰۲۸
ا دل میں بھرا زبسکہ خیال شراب تھا۰۰۲۹
ا کیا طرح ہے آشنا گاہے گہے نا آشنا۰۰۳۰
ا گل کو محبوب ہم قیاس کیا۰۰۳۱
ا مفت آبروے زاہد علامہ لے گیا۰۰۳۲
ا اے تو کہ یاں سے عاقبت کار جائے گا۰۰۳۳
ا کیا کہوں کیسا ستم غفلت سے مجھ پر ہوگیا۰۰۳۴
ا مت ہو دشمن اے فلک مجھ پائمال راہ کا۰۰۳۵
ا ایسی گلی اک شہر اسلام نہیں رکھتا۰۰۳۶
ا خوبی کا اس کی بسکہ طلبگار ہوگیا۰۰۳۷
ا تیر جو اس کمان سے نکلا۰۰۳۸
ا گرمی سے میں تو آتش غم کی پگھل گیا۰۰۳۹
ا سنا ہے حال ترے کشتگاں بچاروں کا۰۰۴۰
ا دل سمجھا نہ محبت کو کچھ ان نے کیا یہ خیال کیا۰۰۴۱
ا گذرا بناے چرخ سے نالہ پگاہ کا۰۰۴۲
ا دل سے شوق رخ نکو نہ گیا۰۰۴۳
ا گل و بلبل بہار میں دیکھا۰۰۴۴
ا کئی دن سلوک وداع کا مرے درپئے دل زار تھا۰۰۴۵
ا مہر کی تجھ سے توقع تھی ستمگر نکلا۰۰۴۶
ا رہے خیال تنک ہم بھی رو سیاہوں کا۰۰۴۷
ا اس کا خرام دیکھ کے جایا نہ جائے گا۰۰۴۸
ا ایسا ترا رہگذر نہ ہوگا۰۰۴۹
ا غم اس کو ساری رات سنایا تو کیا ہوا۰۰۵۰
ا گرچہ سردار مزوں کا ہے امیری کا مزا۰۰۵۱
ا دل جو تھا اک آبلہ پھوٹا گیا۰۰۵۲
ا یاد ایام کہ یاں ترک شکیبائی تھا۰۰۵۳
ا اے دوست کوئی مجھ سا رسوا نہ ہوا ہوگا۰۰۵۴
ا عالم میں کوئی دل کا طلبگار نہ پایا۰۰۵۵
ا کیا مرے آنے پہ تو اے بت مغرور گیا۰۰۵۶
ا خواہ مجھ سے لڑ گیا اب خواہ مجھ سے مل گیا۰۰۵۷
ا تابہ مقدور انتظار کیا۰۰۵۸
ا شب تھا نالاں عزیز کوئی تھا۰۰۵۹
ا پھوٹا کیے پیالے لنڈھتا پھرا قرابا۰۰۶۰
ا دکھ اب فراق کا ہم سے سہا نہیں جاتا۰۰۶۱
ا سمجھے تھے میرؔ ہم کہ یہ ناسور کم ہوا۰۰۶۲
ا دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا۰۰۶۳
ا موا میں سجدے میں پر نقش میرا بار رہا۰۰۶۴
ا جیتے جی کوچۂ دلدار سے جایا نہ گیا۰۰۶۵
ا دل کے تیں آتش ہجراں سے بچایا نہ گیا۰۰۶۶
ا گل میں اس کی سی جو بو آئی تو آیا نہ گیا۰۰۶۷
ا ادھر آکر شکار افگن ہمارا۰۰۶۸
ا گلیوں میں اب تلک تو مذکور ہے ہمارا۰۰۶۹
ا سحرگہ عید میں دور سبو تھا۰۰۷۰
ا راہ دور عشق میں روتا ہے کیا۰۰۷۱
ا رونا ٹک اک تھما تو غم بیکراں سہا۰۰۷۲
ا بیکسانہ جی گرفتاری سے شیون میں رہا۰۰۷۳
ا غمزے نے اس کے چوری میں دل کی ہنر کیا۰۰۷۴
ا ناکسی سے پاس میرے یار کا آنا گیا۰۰۷۵
ا ہاتھ سے تیرے اگر میں ناتواں مارا گیا۰۰۷۶
ا محبت کا جب روز بازار ہوگا۰۰۷۷
ا اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا۰۰۷۸
ا کب تک تو امتحاں میں مجھ سے جدا رہے گا۰۰۷۹
ا جو یہ دل ہے تو کیا سر انجام ہوگا۰۰۸۰
ا خواب میں تو نظر جمال پڑا۰۰۸۱
ا نہ پوچھ خواب زلیخا نے کیا خیال لیا۰۰۸۲
ا نقاش دیکھ تو میں کیا نقش یار کھینچا۰۰۸۳
ا یہ حسرت ہے مروں اس میں لیے لبریز پیمانا۰۰۸۴
ا بارہا گور دل جھنکا لایا۰۰۸۵
ا کیا عجب پل میں اگر ترک ہو اس سے جاں کا۰۰۸۶
ا ہر دم طرف ہے ویسے مزاج کرخت کا۰۰۸۷
ا ہم عشق میں نہ جانا غم ہی سدا رہے گا۰۰۸۸
ا بھلا ہوگا کچھ اک احوال اس سے یا برا ہوگا۰۰۸۹
ا یاں نام یار کس کا ورد زباں نہ پایا۰۰۹۰
ا پھر شب نہ لطف تھا نہ وہ مجلس میں نور تھا۰۰۹۱
ا ہے حال جاے گریہ جان پرآرزو کا۰۰۹۲
ا میں بھی دنیا میں ہوں اک نالہ پریشاں یک جا۰۰۹۳
ا فلک کا منھ نہیں اس فتنے کے اٹھانے کا۰۰۹۴
ا کل شب ہجراں تھی لب پر نالہ بیمارانہ تھا۰۰۹۵
ا پیغام غم جگر کا گلزار تک نہ پہنچا۰۰۹۶
ا اس کا خیال چشم سے شب خواب لے گیا۰۰۹۷
ا کب تلک یہ ستم اٹھایئے گا۰۰۹۸
ا دل پہنچا ہلاکی کو نپٹ کھینچ کسالا۰۰۹۹
ا پل میں جہاں کو دیکھتے میرے ڈبو چکا۰۱۰۰