Editor ChoiceEDITORS’ CHOICE Popular ChoicePOPULAR CHOICE
RUBAICATEGORY
but-khane se dil apne uthae na gae0
itne bhi hum kharab na hote rahte0
tum to ai mehrban anuthe nikle0
آب حیواں نہیں گوارا ہم کو0
اب شہر کی گلیوں میں جو ہم ہوتے ہیں0
اب صوم و صلوٰۃ سے بھی جی ہے بیزار0
اب وقت عزیز کو تو یوں کھوؤگے0
ابرو سے مہ نو نے کہاں خم مارا0
اترا تھا غریبانہ کنارے آکر0
اتنے بھی نہ ہم خراب ہوتے رہتے0
اغلب ہے وہ غم کا بار کھینچے گا میرؔ0
افسوس ہے عمر ہم نے یوں ہی کھوئی0
اک مرتبہ دل پہ اضطرابی آئی0
اک وقت تھے ہم بھی خوش معاشی کرتے0
اللہ کو زاہد جو طلب کرتے ہیں0
اندوہ کھپے عشق کے سارے دل میں0
اندیشۂ مرگ سے ہے سینہ سب ریش0
اوقات لڑکپن کے گئے غفلت میں0
اے تازہ نہال عاشقی کے مالی0
اے میرؔ کہاں دل کو لگایا تونے0
ایسا نہ ہوا کہ ہم نے شادی کی ہو0
آئی نہ کبھو رسم تلطف تم کو0
بت خانے سے دل اپنے اٹھائے نہ گئے0
بس حرص و ہوا سے میرؔ اب تم بھاگو0
پرپیچ بہت ہے شکن زلف سیاہ0
پردہ نہ اٹھاؤ بے حجابی نہ کرو0
پھر عشق میں میرؔ پاؤں دھرتا ہے گا0
پوچھو نہ کچھ اس بے سر و پا کی خواہش0
پیغمبر حق کہ حق دکھایا اس کا0
تاچند تلف میرؔ حیا سے ہوگا0
تجھ رہ سے محال ہے اٹھانا مجھ کو0
تسبیح کو مدتوں سنبھالا ہم نے0
تم تو اے مہرباں انوٹھے نکلے0
تیرا اے دل یہ غم فرو بھی ہوگا0
جاں سے ہے بدن لطیف و رو ہے نازک0
جاناں نے ہمیں کبھو نہ جانا افسوس0
جس وقت شروع یہ حکایت ہوگی0
چپکا چپکا پھرا نہ کر تو غم سے0
چپکے رہنا نہ میرؔ دل میں ٹھانو0
حاصل نہیں دنیا سے بجز دل ریشی0
حسن ظاہر بھی ہے ہمارا دلخواہ0
حیرت کی یہ معرکے کی جا ہے بارے0
حیرت ہے کہ ہو رقیب محرم تیرا0
دامن عزلت کا اب لیا ہے میں نے0
درپیش ہے میرؔ راہ تجھ کو پیارے0
دل تجھ پہ جلے نہ کیونکے میرا بے تاب0
دل جان جگر آہ جلائے کیا کیا0
دل جن کے بجا ہیں ان کو آتی ہے خواب0
دل خون ہوا ضبط ہی کرتے کرتے0
دل خوں ہے جگر داغ ہے رخسار ہے زرد0
دل غم سے ہوا گداز سارا اللہ0
دن فکر دہن میں اس کے جاتا ہے ہمیں0
دنیا میں بڑا روگ جو ہے الفت ہے0
راضی ٹک آپ کو رضا پر رکھیے0
رنجش کی کوئی اس کی روایت نہ سنی0
روئے کوئی کیا گئی جوانی یوں کر0
زانو پہ قد خم شدہ سر کو لایا0
سن سوز دروں کو اس کے جلیے بھنیے0
شب ابر کہ پیشرو ہو دریا جس کا0
طاعت میں جواں ہوتے تو کرتے تقصیر0
طوفان اے میرؔ شب اٹھائے تو نے0
کاہے کو کوئی خراب خواری ہوتا0
کچھ خواب سی ہے میرؔ یہ صحبت داری0
کچھ میرؔ تکلف تو نہیں اپنے تئیں0
کہتا ہے یہ اپنی آنکھوں دیکھیں گے فقیر0
کو عمر کہ اب فکر امیری کریے0
کوچے میں ترے آن کے اڑ بھی بیٹھے0
کی حسن نے تجھ سے بے وفائی آخر0
کیا تم سے کہوں میرؔ کہاں تک روؤں0
کیا کریے بیاں مصیبت اپنی پیارے0
کیا کہیے ادا بتوں سے کیا ہوتی ہے0
کیا کہیے خراب ہوتے ہم کیسے پھرے0
کیا کوفت تھی دل کے لخت کوٹے نکلے0
کیا کیا اے عاشقی ستایا تونے0
کیا کیا ہیں سلوک بد فقط غم ہی نہیں0
کیا میرؔ تجھے جان ہوئی تھی بھاری0
کیا میرؔ کا مذکور کریں سب ہے جہل0
کیسا احساں ہے خلق عالم کرنا0
گذرا یہ کہ شکوہ و شکایت کیجے0
گو روکش ہفتاد و دو ملت ہم ہیں0
گو میرؔ کہ احوال نہایت ہے سقیم0
لو یار ستمگر نے لڑائی کی ہے0
مت مال کسی کا یار تل کر رکھنا0
محشر میں اگر یہ آتشیں دم ہوگا0
مدت کے جو بعد جی بحال آتا ہے0
مستی نہ کر اے میرؔ اگر ہے ادراک0
مسجد میں تو شیخ کو خروشاں دیکھا0
ملنا دلخواہ اب خیال اپنا ہے0
ملیے اس شخص سے جو آدم ہووے0
میرؔ اس سے ملے کہ جو ملا بھی نہ کبھو0
میرؔ اس کے ہوئے تھے ہم جو یار خاطر0
ہجراں میں کیا سب نے کنارہ آخر0
ہر روز نیا ایک تماشا دیکھا0
ہر صبح غموں میں شام کی ہے ہم نے0
ہر صبح مرے سر پہ قیامت گذری0
ہر لحظہ رلاتا ہے کڑھاتا ہے مجھے0
ہرچند کہ اے مہ اب تمامی ہے گی0
ہرچند کہ طاعت میں ہوا ہے تو پیر0
ہم سے تو بتوں کی وہ حیا کی باتیں0
ہم میرؔ برے اتنے ہیں وہ اتنا خوب0
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 107 items