عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

ساحر لدھیانوی

عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

ساحر لدھیانوی

MORE BYساحر لدھیانوی

    عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

    جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا

    تلتی ہے کہیں دیناروں میں بکتی ہے کہیں بازاروں میں

    ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں

    یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹ جاتی ہے عزت داروں میں

    عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

    مردوں کے لئے ہر ظلم روا عورت کے لیے رونا بھی خطا

    مردوں کے لئے ہر عیش کا حق عورت کے لیے جینا بھی سزا

    مردوں کے لئے لاکھوں سیجیں، عورت کے لیے بس ایک چتا

    عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

    جن سینوں نے ان کو دودھ دیا ان سینوں کو بیوپار کیا

    جس کوکھ میں ان کا جسم ڈھلا اس کوکھ کا کاروبار کیا

    جس تن سے اگے کونپل بن کر اس تن کو ذلیل و خوار کیا

    سنسار کی ہر اک بے شرمی غربت کی گود میں پلتی ہے

    چکلوں ہی میں آ کر رکتی ہے فاقوں سے جو راہ نکلتی ہے

    مردوں کی ہوس ہے جو اکثر عورت کے پاپ میں ڈھلتی ہے

    عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

    عورت سنسار کی قسمت ہے پھر بھی تقدیر کی ہیٹی ہے

    اوتار پیمبر جنتی ہے پھر بھی شیطان کی بیٹی ہے

    یہ وہ بد قسمت ماں ہے جو بیٹوں کی سیج پہ لیٹی ہے

    عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-sahir (Pg. 475)
    • Author : sahir ludhianvi
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd.
    • کتاب : kulliyat-e-sahir (Pg. 475)
    • Author : Sahir ludhyanvi
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd.
    • کتاب : kulliyat-e-sahir (Pg. 475)
    • Author : Sahir ludhyanvi
    • مطبع : Farid Book Depot (Pvt.) Ltd.

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY