گمشدگاں
کنار شام کسی بوئے گمشدہ کا سراغ
ملا تو ہم بھی سر رہ گزار چلنے لگے
کسی دریچے کے اندر چراغ جلنے لگے
کسی افق پہ چمکتا ہوا کوئی مہتاب
کسی نظر سے اترتا ہوا کوئی چہرہ
کسی شباب میں جھلکا ہوا ملال کا رنگ
اسی ہوا میں چلے آئے رہ گزار پہ ہم
مہک تلاشتے پھرتے تھے
کوئی انہونی
ہمی کو آخر شب میں شکار کر لے گی
تلاش کرتے ہوئے بوئے گمشدہ کا بدن
ہم اپنا آپ بھی کھو دیں گے رہ گزاروں میں
مگر چمک نہیں پائیں گے ہم ستاروں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.