Adil Mansuri's Photo'

عادل منصوری

1936 - 2008 | احمد آباد, ہندوستان

ممتاز جدید شاعر، زبان کے روایت شکن استعمال کے لئے مشہور، اپنے خطاط اور ڈرامہ نگاربھی

ممتاز جدید شاعر، زبان کے روایت شکن استعمال کے لئے مشہور، اپنے خطاط اور ڈرامہ نگاربھی

ایسے ڈرے ہوئے ہیں زمانے کی چال سے

گھر میں بھی پاؤں رکھتے ہیں ہم تو سنبھال کر

آواز کی دیوار بھی چپ چاپ کھڑی تھی

کھڑکی سے جو دیکھا تو گلی اونگھ رہی تھی

بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

میں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھا

چپ چاپ بیٹھے رہتے ہیں کچھ بولتے نہیں

بچے بگڑ گئے ہیں بہت دیکھ بھال سے

دریا کے کنارے پہ مری لاش پڑی تھی

اور پانی کی تہہ میں وہ مجھے ڈھونڈ رہا تھا

دریا کی وسعتوں سے اسے ناپتے نہیں

تنہائی کتنی گہری ہے اک جام بھر کے دیکھ

دروازہ بند دیکھ کے میرے مکان کا

جھونکا ہوا کا کھڑکی کے پردے ہلا گیا

دروازہ کھٹکھٹا کے ستارے چلے گئے

خوابوں کی شال اوڑھ کے میں اونگھتا رہا

گرتے رہے نجوم اندھیرے کی زلف سے

شب بھر رہیں خموشیاں سایوں سے ہمکنار

ہم کو گالی کے لیے بھی لب ہلا سکتے نہیں

غیر کو بوسہ دیا تو منہ سے دکھلا کر دیا

حمام کے آئینے میں شب ڈوب رہی تھی

سگریٹ سے نئے دن کا دھواں پھیل رہا تھا

حدود وقت سے باہر عجب حصار میں ہوں

میں ایک لمحہ ہوں صدیوں کے انتظار میں ہوں

جانے کس کو ڈھونڈنے داخل ہوا ہے جسم میں

ہڈیوں میں راستہ کرتا ہوا پیلا بخار

جسم کی مٹی نہ لے جائے بہا کر ساتھ میں

دل کی گہرائی میں گرتا خواہشوں کا آبشار

جو چپ چاپ رہتی تھی دیوار پر

وہ تصویر باتیں بنانے لگی

کب سے ٹہل رہے ہیں گریبان کھول کر

خالی گھٹا کو کیا کریں برسات بھی تو ہو

کب تک پڑے رہوگے ہواؤں کے ہاتھ میں

کب تک چلے گا کھوکھلے شبدوں کا کاروبار

کھڑکی نے آنکھیں کھولی

دروازے کا دل دھڑکا

خودبخود شاخ لچک جائے گی

پھل سے بھرپور تو ہو لینے دو

خواہش سکھانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر

اب شام ہو چلی میاں دیکھو کدھر گئی

کس طرح جمع کیجئے اب اپنے آپ کو

کاغذ بکھر رہے ہیں پرانی کتاب کے

کوئی خودکشی کی طرف چل دیا

اداسی کی محنت ٹھکانے لگی

کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو

تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو

میرے ٹوٹے حوصلے کے پر نکلتے دیکھ کر

اس نے دیواروں کو اپنی اور اونچا کر دیا

مجھے پسند نہیں ایسے کاروبار میں ہوں

یہ جبر ہے کہ میں خود اپنے اختیار میں ہوں

نشہ سا ڈولتا ہے ترے انگ انگ پر

جیسے ابھی بھگو کے نکالا ہو جام سے

نیند بھی جاگتی رہی پورے ہوئے نہ خواب بھی

صبح ہوئی زمین پر رات ڈھلی مزار میں

پھر بالوں میں رات ہوئی

پھر ہاتھوں میں چاند کھلا

پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے

پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں

پھولوں کی سیج پر ذرا آرام کیا کیا

اس گلبدن پہ نقش اٹھ آئے گلاب کے

تصویر میں جو قید تھا وہ شخص رات کو

خود ہی فریم توڑ کے پہلو میں آ گیا

تم کو دعویٰ ہے سخن فہمی کا

جاؤ غالبؔ کے طرف دار بنو

تو کس کے کمرے میں تھی

میں تیرے کمرے میں تھا

انگلی سے اس کے جسم پہ لکھا اسی کا نام

پھر بتی بند کر کے اسے ڈھونڈتا رہا

وہ جان نو بہار جدھر سے گزر گیا

پیڑوں نے پھول پتوں سے رستہ چھپا لیا

وہ تم تک کیسے آتا

جسم سے بھاری سایہ تھا

یادوں نے اسے توڑ دیا مار کے پتھر

آئینے کی خندق میں جو پرچھائیں پڑی تھی

ذرا دیر بیٹھے تھے تنہائی میں

تری یاد آنکھیں دکھانے لگی

Added to your favorites

Removed from your favorites