جوشؔ ملیح آبادی

  • 1898-1982
  • راولپنڈی

سب سے شعلہ مزاج ترقی پسند شاعر، شاعر انقلاب کے طور پر معروف

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ؔ ,مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوشؔ0
0 ا ,بے_ہوشیوں نے اور خبردار کر دیا0
0 ا ,سوز_غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا1
0 ا ,صبح بالیں پہ یہ کہتا ہوا غم_خوار آیا0
0 ا ,گداز_دل سے باطن کا تجلی_زار ہو جانا0
0 ا ,ملا جو موقع تو روک دوں_گا جلالؔ روز_حساب تیرا0
0 ا ,وہ صبر دے کہ نہ دے جس نے بیقرار کیا0
0 ر ,آزادہ_منش رہ دنیا میں پروائے_امید_و_بیم نہ کر0
0 ز ,ساری دنیا ہے ایک پردۂ_راز0
0 ز ,نقش_خیال دل سے مٹایا نہیں ہنوز0
0 ک ,للہ_الحمد کہ دل شعلہ_فشاں ہے اب تک0
0 م ,پھر آشنائے_لذت_درد_جگر ہیں ہم0
0 م ,پھر سر کسی کے در پہ جھکائے ہوئے ہیں ہم1
0 ن ,آؤ کعبے سے اٹھیں سوئے_صنم_خانہ چلیں0
0 ن ,دوستو وقت ہے پھر زخم_جگر تازہ کریں0
0 ن ,شش_جہت آپ کو آئیں_گے نظر دو_بٹا_تین1
0 ن ,یہ بات یہ تبسم یہ ناز یہ نگاہیں0
0 ھ ,اس بات کی نہیں ہے کوئی انتہا نہ پوچھ1
0 و ,ظالم یہ خموشی بے_جا ہے اقرار نہیں انکار تو ہو0
0 و ,فکر ہی ٹھہری تو دل کو فکر_خوباں کیوں نہ ہو0
0 ے ,آ فصل_گل ہے غرق_تمنا ترے لیے0
0 ے ,اپنے میں جواب بھولے سے کبھی راحت کا تقاضا پاتا ہے0
0 ے ,ادھر مذہب ادھر انساں کی فطرت کا تقاضا ہے2
0 ے ,اس قدر ڈوبا ہوا دل درد کی لذت میں ہے0
0 ے ,تبسم ہے وہ ہونٹوں پر جو دل کا کام کر جائے0
0 ے ,تجربے کے دشت سے دل کو گزرنے کے لیے0
0 ے ,جب سے مرنے کی جی میں ٹھانی ہے0
0 ے ,جی میں آتا ہے کہ پھر مژگاں کو برہم کیجیے0
0 ے ,حیرت ہے آہ_صبح کو ساری فضا سنے0
0 ی ,دل آزادہ_رو میں وہ تمنا تھی بیاباں کی0
0 ی ,دور اندیش مریضوں کی یہ عادت دیکھی0
0 ی ,سبو اٹھا کہ فضا سیم_خام ہے ساقی0
0 ے ,سرشار ہوں سرشار ہے دنیا مرے آگے0
0 ے ,صیاد دام_زلف سے مجھ کو رہا کرے0
0 ی ,عیش کی جانب جو مائل کچھ طبیعت ہو گئی0
0 ے ,قدم انساں کا راہ_دہر میں تھرا ہی جاتا ہے2
0 ے ,کافر بنوں_گا کفر کا ساماں تو کیجئے0
0 ے ,میری حالت دیکھیے اور ان کی صورت دیکھیے0
0 ی ,میں رو رہا ہوں تیری .طر ہے عتاب کی0
0 ے ,نمایاں منتہائے_سعئ_پیہم ہوتی جاتی ہے0
0 ے ,نہ چھیڑ شاعر رباب_رنگیں یہ بزم ابھی نکتہ_داں نہیں ہے0
0 ی ,یہ نصیب_شاعری ہے زہے شان_کبریائی0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 42 of 42 items