شاد عارفی

  • 1900-1964
  • لوھارو

اہم رجحان ساز جدید شاعروں میں نمایاں

اہم رجحان ساز جدید شاعروں میں نمایاں

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,ابھی تو موسم_ناخوش_گوار آئے_گا0
0 ا ,اٹھ گئی اس کی نظر میں جو مقابل سے اٹھا0
0 ا ,بہ_پاس_احتیاط_آرزو یہ بارہا ہوا0
0 ا ,جذبۂ_محبت کو تیر_بے_خطا پایا0
0 ا ,جو بھی اپنوں سے الجھتا ہے وہ کر کیا لے_گا0
0 ا ,حدود_اکل_و_شرب کا سوال ہی نہیں رہا0
0 ا ,عہد_مایوسی جہاں تک سازگار آتا گیا0
0 ا ,کھری باتیں بہ_انداز_سخن کہہ دوں تو کیا ہوگا0
0 ا ,وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے_گا0
0 اپنے جی میں جو ٹھان لیں گے آپ0
0 انتظار تھا ہم کو خوش نما بہاروں کا0
0 شادؔ افتاد ہر نفس مت پوچھ0
0 ضبط ناوک غم سے بات بن تو سکتی ہے0
0 کون بتوں سے رشتہ جوڑے0
0 کیا کریں گلشن پہ جوبن زیر دام آیا تو کیا0
0 م ,چاہتے ہیں گھر بتوں کے دل میں ہم0
0 ن ,جب تک ہم ہیں ممکن ہی نہیں نامحرم محرم ہو جائیں0
0 ن ,چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں0
0 ن ,چمن کو آگ لگانے کی بات کرتا ہوں0
0 ن ,ستمگر کو میں چارہ_گر کہہ رہا ہوں0
0 ن ,میسر جن کی نظروں کو ترے گیسو کے سائے ہیں0
0 ے ,تارے جو آسماں سے گرے خاک ہو گئے0
0 ے ,قدم سنبھل کے بڑھاؤ کہ روشنی کم ہے0
0 ی ,کبھی تلاش نہ ضائع نہ رائیگاں ہوگی0
0 ے ,کہتا ہے باغبان لہٰذا نہ چاہئے0
0 ے ,مستقبل روشن_تر کہیے0
0 ی ,ہماری غزلوں ہمارے شعروں سے تم کو یہ آگہی ملے_گی0
0 ے ,ہونٹوں پر محسوس ہوئی ہے آنکھوں سے معدوم رہی ہے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 28 of 28 items