شہزاد احمد

  • 1932-2012
  • لاھور

نئی اردو غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں

نئی اردو غزل کے اہم ترین پاکستانی شاعروں میں نمایاں

Editor Choiceمنتخب Popular Choiceمقبول
غزلصنف
0 ا ,تجھ پہ جاں دینے کو تیار کوئی تو ہوگا0
0 ا ,تیرے گھر کی بھی وہی دیوار تھی دروازہ تھا0
0 ا ,ثبت ہے چہروں پہ چپ بن میں اندھیرا ہو چکا0
0 ا ,جان مقدر میں تھی جان سے پیارا نہ تھا0
0 ا ,جب اس کی زلف میں پہلا سفید بال آیا0
0 ا ,چراغ خود ہی بجھایا بجھا کے چھوڑ دیا0
0 ا ,دریا کبھی اک حال میں بہتا نہ رہے_گا0
0 ا ,دل و دماغ میں احساس_غم ابھار دیا0
0 ا ,دل و نظر پہ ترے بعد کیا نہیں گزرا0
0 ا ,دل_فسردہ اسے کیوں گلے لگا نہ لیا0
0 ا ,رات کی نیندیں تو پہلے ہی اڑا کر لے گیا0
0 ا ,رخصت ہوا تو آنکھ ملا کر نہیں گیا0
0 ا ,عشق وحشی ہے جہاں دیکھے_گا0
0 ا ,عمر جتنی بھی کٹی اس کے بھروسے پہ کٹی (ردیف .. ا)0
0 ا ,میری خاطر دیر نہ کرنا اور سفر کرتے جانا0
0 ا ,یوں خاک کی مانند نہ راہوں پہ بکھر جا0
0 ت ,ڈوب جائیں_گے ستارے اور بکھر جائے_گی رات0
0 د ,واقعہ کوئی نہ جنت میں ہوا میرے بعد0
0 ر ,باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر0
0 ر ,سکون کچھ تو ملا دل کا ماجرا لکھ کر0
0 ر ,میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر0
0 ک ,خلق نے چھین لی مجھ سے مری تنہائی تک0
0 م ,کب تک کڑکتی دھوپ میں آنکھیں جلائیں ہم0
0 ن ,اس بھرے شہر میں آرام میں کیسے پاؤں0
0 ن ,اس دوشیزہ مٹی پر نقش_کف_پا کوئی بھی نہیں0
0 ن ,بھٹکتی ہیں زمانے میں ہوائیں0
0 ن ,خزاں جب آئے تو آنکھوں میں خاک ڈالتا ہوں0
0 ن ,کمروں میں چھپنے کے دن ہیں اور نہ برہنہ راتیں ہیں0
0 ن ,میں اکیلا ہوں یہاں میرے سوا کوئی نہیں0
0 ن ,نہ بستیوں کو عزیز رکھیں نہ ہم بیاباں سے لو لگائیں0
0 ن ,ہم لوگوں کو اپنے دل کے راز بتاتے رہتے ہیں0
0 ن ,ویسے تو اک دوسرے کی سب سنتے ہیں0
0 ن ,یہ کس کے آنے کے امکاں دکھائی دیتے ہیں0
0 ہ ,کتنی بے_نور تھی دن بھر نظر_پروانہ0
0 و ,آتی ہے دم_بہ_دم یہ صدا جاگتے رہو0
0 و ,اس دور_بے_دلی میں کوئی بات کیسے ہو0
0 و ,تھوڑا سا رنگ رات کے چہرے پہ ڈال دو0
0 و ,جو شجر سوکھ گیا ہے وہ ہرا کیسے ہو0
0 و ,چمک چمک کے ستارو مجھے فریب نہ دو0
0 و ,سورج کی کرن دیکھ کے بیزار ہوئے ہو0
0 و ,شہر کا شہر اگر آئے بھی سمجھانے کو0
0 و ,کچھ نہ کچھ ہو تو سہی انجمن_آرائی کو0
0 و ,گھر جلا لیتا ہے خود اپنے ہی انوار سے تو0
0 و ,میں جو روتا ہوں تو کہتے ہو کہ ایسا نہ کرو0
0 و ,وہ جا چکا ہے تو کیوں بے_قرار اتنے ہو0
0 و ,وہ مرے پاس ہے کیا پاس بلاؤں اس کو0
0 ے ,اب نبھانی ہی پڑے_گی دوستی جیسی بھی ہے0
0 ے ,اب نہ وہ شور نہ وہ شور مچانے والے0
0 ے ,ابلیس بھی رکھ لیتے ہیں جب نام فرشتے0
0 ی ,آپ بھی نہیں آئے نیند بھی نہیں آئی0
0 ے ,اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے1
0 ے ,اٹھیں آنکھیں اگر آہٹ سنی ہے0
0 ے ,آج تک اس کی محبت کا نشہ طاری ہے0
0 ے ,اسی باعث زمانہ ہو گیا ہے اس کو گھر بیٹھے0
0 ی ,اصل میں ہوں میں مجرم میں نے کیوں شکایت کی0
0 ے ,اگرچہ کار_دنیا کچھ نہیں ہے0
0 ے ,باغ_بہشت کے مکیں کہتے ہیں مرحبا مجھے0
0 ے ,بکھرے ہوئے تاروں سے مری رات بھری ہے0
0 ی ,بے_تابیٔ_غم_ہائے_دروں کم نہیں ہوگی0
0 ے ,پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نے0
0 ے ,پیار کے رنگ_محل برسوں میں تیار ہوئے0
0 ے ,تری تلاش تو کیا تیری آس بھی نہ رہے0
0 ی ,جانے کس سمت سے ہوا آئی0
0 ے ,جب آفتاب نہ نکلا تو روشنی کے لیے0
0 ی ,جس نے تری آنکھوں میں شرارت نہیں دیکھی0
0 ی ,جل بھی چکے پروانے ہو بھی چکی رسوائی0
0 ے ,جو دل میں کھٹکتی ہے کبھی کہہ بھی سکو_گے0
0 ی ,چپ کے عالم میں وہ تصویر سی صورت اس کی0
0 ے ,حال اس کا ترے چہرہ پہ لکھا لگتا ہے0
0 ی ,خود ہی مل بیٹھے ہو یہ کیسی شناسائی ہوئی0
0 ے ,دل بہت مصروف تھا کل آج بے_کاروں میں ہے0
0 ے ,دل سے یہ کہہ رہا ہوں ذرا اور دیکھ لے0
0 ے ,دل کا برا نہیں مگر شخص عجیب ڈھب کا ہے0
0 ے ,دیکھ اب اپنے ہیولے کو فنا ہوتے ہوئے0
0 ے ,دیکھنے اس کو کوئی میرے سوا کیوں آئے0
0 ے ,زمیں اپنے لہو سے آشنا ہونے ہی والی ہے0
0 ے ,عقل ہر بات پہ حیراں ہے اسے کیا کہیے0
0 ے ,فصل_گل خاک ہوئی جب تو صدا دی تو نے0
0 ی ,کہیں بھی سایہ نہیں کس طرف چلے کوئی0
0 ے ,کوشش ہے شرط یوں_ہی نہ ہتھیار پھینک دے0
0 ے ,کون کہتا ہے کہ دریا میں روانی کم ہے0
0 ے ,کیسے گزر سکیں_گے زمانے بہار کے0
0 ی ,لبوں پہ آ کے رہ گئیں شکایتیں کبھی کبھی0
0 ے ,لگے تھے غم تجھے کس عمر میں زمانے کے0
0 ے ,منتظر دشت_دل_و_جاں ہے کہ آہو آئے0
0 ے ,نہ سہی کچھ مگر اتنا تو کیا کرتے تھے0
0 ے ,ہجر کی رات مری جاں پہ بنی ہو جیسے0
0 ے ,یہ بھی سچ ہے کہ نہیں ہے کوئی رشتہ تجھ سے0
0 ے ,یہ سوچ کر کہ تیری جبیں پر نہ بل پڑے0
0 ے ,یہ کس غم سے عقیدت ہو گئی ہے0
0 ے ,یہ نہ ہو وہ بھولنے والا بھلا دینا پڑے0
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 91 of 91 items