تازہ غزلیں

اردو غزلوں کا وسیع ذخیرہ


غزل
اب اس سے بڑھ کے کیا ناکامیاں ہوں گی مقدر میں
اب بھی ذروں پہ ستاروں کا گماں ہے کہ نہیں
اب ترے لمس کو یاد کرنے کا اک سلسلہ اور دیوانہ پن رہ گیا
اب تلک تند ہواؤں کا اثر باقی ہے
اب کوئی غم ہی نہیں ہے جو رلائے مجھ کو
اب ہے کیا لاکھ بدل چشم گریزاں کی طرح
ابھرا جو چاند اونگھتی پرچھائیاں ملیں
ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے سب خوبیاں میری
آپ بیتی ذرا سنا اے دشت
آپ کیوں بیٹھے ہیں غصے میں مری جان بھرے
اپنے عہد وفا کو بھول گئے
اپنے گھر میں مری تصویر سجانے والے
اپنے وہم و گمان سے نکلا
آتش حسن سے اک آب ہے رخساروں میں
اتنی بار محبت کرنا کتنا مشکل ہو جاتا ہے
آج تو اس نے یوں دیکھا ہے
آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے
آرزو دل میں بنائے ہوئے گھر ہے بھی تو کیا
آزردگی کا اس کی ذرا مجھ کو پاس تھا
اس بات کا ملال نہیں ہے کہ دل گیا
اس چشم فسوں گر کے پیمانے کی باتیں ہوں
اس سے کہہ دو کہ وہ جفا نہ کرے
اس نے خود فون پہ یہ مجھ سے کہا اچھا تھا
آسماں پر کالے بادل چھا گئے
آسماں گردش میں تھا ساری زمیں چکر میں تھی
اسیر پنجۂ عہد شباب کر کے مجھے
اقرا کی سوغات کی صورت آ
اک آہ زیر لب کے گنہ گار ہو گئے
اک پردہ نشیں کی آرزو ہے
اک خواب آتشیں کا وہ محرم سا رہ گیا
اک شخص اپنے ہاتھ کی تحریر دے گیا
اک لمحے نے جیون دھارا روک لیا
آگ ہی کاش لگ گئی ہوتی
اگر تم دل ہمارا لے کے پچھتائے تو رہنے دو
اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میں
اگر ہو خوف زدہ طاقت بیاں کیسی
الفاظ نہ دے پائیں اگر ساتھ بیاں کا
اللہ اے بتو ہمیں دکھلائے لکھنؤ
امید و بیم کے عالم میں دل دہلتا ہے
ان لبوں کی یاد آئی گل کے مسکرانے سے
انتشار و خوف ہر اک سر میں ہے
انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس
آندھی میں بھی چراغ مگن ہے صبا کے ساتھ
انسان پہ کیا گزر رہی ہے
آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بے باک بہت تھے
انہوں نے کیا نہ کیا اور کیا نہیں کرتے
انہیں سوال ہی لگتا ہے میرا رونا بھی
انہیں لوگوں کی بدولت یہ حسیں اچھے ہیں
آوارگان صحرا کوئے صنم نہ ڈھونڈیں
اوروں پہ اتفاق سے سبقت ملی مجھے
ایسی نئی کچھ بات نہ ہوگی
بادلوں کے بیچ تھا میں بے سر و ساماں نہ تھا
بارش کے گھنگھور حوالے گنتا رہتا ہوں
بارشوں میں غسل کرتے سبز پیڑ
بجھی بجھی ہے صدائے نغمہ کہیں کہیں ہیں رباب روشن
برباد نہ کر اس کو ذرا ہاتھ پہ دھر لا
بہ ہر عنواں محبت کو بہار زندگی کہئے
بھول کر بھی نہ پھر ملے گا تو
بے چین دل ہے پھر بھی چہرے پہ دل کشی ہے
بیٹھے ہوئے ہیں ہم خود آنکھوں میں دھول ڈالے
بیسویں صدی کے ہم شاعر پریشاں ہیں
پرانی چوٹ میں کیسے دکھاؤں
پڑا ہے پاؤں میں اب سلسلہ محبت کا
پنچھیوں کے روبرو کیا ذکر ناداری کروں
پہلا سا وہ جنون محبت نہیں رہا (ردیف .. م)
پوچھتے ہو تم میں کب کر کے دکھلاؤں گا
تجربہ جو بھی ہے میرا میں وحی لکھتا ہوں
تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں
ترے وصل پہ تیری قربت پہ لعنت
تلاش کون و مکاں ہے نہ لا مکاں کی تلاش
تم گلستاں سے گئے ہو تو گلستاں چپ ہے
تمام عالم امکاں مرے گمان میں ہے
تمہارے دل کی طرح یہ زمین تنگ نہیں
تمیز پسر زمین و ابن فلک نہ کرنا
تو مجھے کس کے بنانے کو مٹا بیٹھا ہے
تیر کی پرواز ہے مشکیزۂ دل کی طرف
تیرا خیال جاں کے برابر لگا مجھے
تیرہ و تار زمینوں کے اجالے دریا
تیری رنگت بہار سے نکلی
تیری قربت میں بیٹھا ہوں
ٹھہرے تو کہاں ٹھہرے آخر مری بینائی
جا بیٹھتے ہو غیروں میں غیرت نہیں آتی
جاتی رت سے پیار کرو گے
جانتے تھے غم ترا دریا بھی تھا گہرا بھی تھا
جانے پھر اس کے دل میں کیا بات آ گئی تھی
جب کہا تیر تری آنکھ نے اکثر مارا
جب کہا میں نے کہ مر مر کے بچے ہجر میں ہم (ردیف .. ے)
جب کوئی ٹیس دل دکھاتی ہے
جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑا
جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتے ہیں
جبر بے چارگی کے ماروں میں
جتنے تھے رنگ حسن بیاں کے بگڑ گئے
جدا کیا تو بہت ہی ہنسی خوشی اس نے
جزیرے ہوں کہ وہ صحرا ہوں خواب ہونا ہے
جس کو دیکھو وہ گرفتار بلا لگتا ہے
جس کی ہر بات میں قہقہہ جذب تھا میں نہ تھا دوستو
جس میں ہو دوزخ کا ڈر کیا لطف اس جینے میں ہے
جسم کے نیزے پر جو رکھا ہے
جسم ہی پامال ہو جائے تو سر کیا کیجئے
جفا سے وفا مسترد ہو گئی
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 307 items