تازہ نظمیں

نظموں کا وسیع ذخیرہ-اردو شاعری کی ایک صنف


اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔


نظم
۲۳ مارچ اذان صبح نیاز
ابدی مسئلہ
ابھی وہ ایک دن کا بھی نہیں
آخری پتیوں میں
اداسی ایک لڑکی ہے
اردو
آزادی سے نیندوں تک
آس محل
آشائیں
اعتراف
افلاک گونگے ہیں
ان دیکھی لہریں
انتظار
اندھا بھکاری
اندھیرا
اندیشہ ہائے دور دراز
اے فیری ٹیل
اے ہم راز
ایک درخت کی دہشت
ایک کلرک لڑکی
ایک نظم
ایک نظم
بد گمان
بشارت
بہار کا قرض
بہت دنوں کی بات ہے۔۔۔۔۔
بھگت سنگھ کے نام
پرچھائیاں
پریشانیٔ دید
پریکرما طواف
پہلے موسم کے بعد
پہلی نظم
پہیلی
پیاس
ترغیب
تم ہنستے کیوں ہو
تو ایسا کیوں نہیں کرتے
جان کے عوض
جنم جنم کی کہانی
چار سال بعد
چاہت
چلو واپس چلیں
چور دروازہ
حبیب جالبؔ
خار چنتے ہوئے
ختم ہوئی بارش سنگ
خواب
دریوزہ گری
ڈائری
ڈرائنگ روم
ذات کے اسم کا معجزہ
رات کے پڑاؤ پر
رائیگاں صبح کی چتا پر
رقص
رنگ سیاہ کے نام ایک نظم
زمیں خواب خوشبو
ساز مستقبل
سرخ پھندے سنہری مالائیں
سروش
سڑک
سفر اور قید میں اب کی دفعہ کیا ہوا
سگریٹ
سنا ہے خود کو
سنہری مچھلی
سوال سوال سیاہ کشکول
شام
شام کی اڑان
شب ہجر کوئی کہاں گیا
شہر جاں کی فصیلوں سے باہر
صبح کاذب میں ایک نظم
صدا بہ صحرا
طفل آرزو
ظرف
عدم کتھا
عین الیقین
غالب
قریب و دور
کہانی ایک رات کی
کویا
کوئی آواز نہیں
کوئی دود سے بن جاتا ہے وجود
گاتا ہوا پتھر
گمنام شہید کا کتبہ
لفظ دے مجھے کچھ تو
لمحہ
ماضی میں رہ جانے والی آنکھیں
محور
مراجعت
مرے پر نہ باندھو
مشرقی لڑکیوں کے نام ایک نظم
معزز شاعر کی کائنات
معصومیت
مکافات
مکالمہ
منظر یوں تھا
میرا پسندیدہ منظر
میں
نغمہ نما
نوح کے بعد
واپسی
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 101 items