تازہ نظمیں

نظموں کا وسیع ذخیرہ-اردو شاعری کی ایک صنف


اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔


نظم
اترن پہنو گے
آج تنہائی نے تھوڑا سا دلاسہ جو دیا
اڑان سے پہلے
امید
انارکزم
انتساب
انہیں ڈھونڈو
ایک خیال کی رو میں
بجھا رت
بیج
بیساکھی
پرستش
پرندہ کمرے میں رہ گیا
پونجی
تشنگی
تلاش
جلسہ
جو رہی سو بے خبری رہی
چلو چھوڑو
چند لمحے وصال موسم کے
حسرتیں
حسین
خبر شاکی ہے
دھنک کی بوند
دو پایہ
راز
ریت پر سفر کا لمحہ
زہر
سانحہ
سر مژگاں
سرائے
سوال
صدیوں سے اجنبی
صفر
عدم خواب کے خواب میں
غصیلا پرندہ ایک دن اسے کھا جائے گا
فتح کا غم
فی میل بل فائٹر
قدرت
قربت
قرض
قیامت
کام والی
کایا کا کرب
کل من علیہا فان
کھڑکی
کوئی زندگی تھی گمان سی
کیڑے
گھات
گھروندے
لفظ
ماضی
ماہ کامل
مجھے تقسیم کر دو
مروت
مہلت
میں
میں سوچتا ہوں
ناگزیر
نظم اتحاد
نوید سفر
ہجر
ہجر کی راتیں
ہیولے
وطن آزاد کرنے کے لئے
وہ آ چکا تھا
یاد
seek-warrow-w
  • 1
arrow-eseek-e1 - 67 of 67 items