تازہ نظمیں

نظموں کا وسیع ذخیرہ-اردو شاعری کی ایک صنف


اردو میں نظم کی صنف انیسویں صدی کی آخری دہائیوں کے دوران انگریزی کے اثر سے پیدا ہوئی جو دھیرے دھیرے پوری طرح قائم ہو گئی۔ نظم بحر اور قافیے میں بھی ہوتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ اب نثری نظم بھی اردو میں مستحکم ہو گئی ہے۔


نظم
2 قہقہہ
اب ڈر نہیں لگتا
ابن زیاد کا فرمان
ابن قابیل کی دعا
اپنا سایہ
اپنے اندر ذرا جھانک میرے وطن
آج پھر درد اٹھا
احساس جرم
احساس کامراں
آخری دن سے پہلے
آخری کوس
اداس چاند
اک ادھوری داستان
اک اور بھی ہے منصف
اگر خدا مل گیا مجھ کو
الٰہی رحم کر مجھ پر
امید
آنا ہے تو آ راہ میں کچھ پھیر نہیں ہے
انتظار کے بعد
انصاف کا ترازو جو ہاتھ میں اٹھائے
انفرادیت پرست
آنے والی نسل کا تحفہ
اہنسا کی پہلی سنہری کرن
اور پھر چاند نکلتا ہے
اے نئی نسل
ایڈز
ایک اتفاقی موت کی روداد
ایک رات سفید گلابوں والے تالاب کے پاس
ایک شام
ایک منظر
آئینے کے سامنے
باد خزاں کو کیا پروا ہے
بارش
باندیاں
بچھڑا لمحہ
برسو رام دھڑاکے سے
برگ ریز
بشرط استواری
بقا
بقائے محبت
بنگال
بہت گھٹن ہے
بھوک
بھول بھلیاں
بھولی بسری رات
بوعلی اندر غبار ناقہ گم
بوگن ویلیا کی وارفتگی دیکھ کر
بے بسی
بے روزگار 2
بے نام سلسلے
پچھلے پہر کی دستک
پچھلی رات
پرانے کوٹ
پرچھائیاں
پرفیوم
پس منظر کی آواز
تاج محل سی لگتی ہو
تخاطب
تردید
تری دنیا کے نقشے میں
تسخیر فطرت کے بعد
تشکر
تلاش
تلخ تجربہ
تم جو آتے ہو
تم موت اور محبت کی خوش بو سے بنی ہو
تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا
تیری آواز
تیرے خطوں کی خوشبو
تیرے میرے جسم پر اسرار میں
جادو کا کھیل
جاگتی آنکھوں کا خواب
جانے کیوں ایسا ہوں میں
جذبۂ عشاق کام آنے کو ہے
جسم کا ادھوراپن
جشن عید
جلد بازی
جلوۂ سحر
جنگل ہم اور کالے بادل
جیسے مدھوبن کی بالا
چاند رات
چبھتے خواب
حسرت پرواز
حقیقت
خاموشی
خانہ آبادی
خانہ بدوشوں کا گیت
خبر وحشت اثر تھی
خدائے برتر تری زمیں پر زمیں کی خاطر یہ جنگ کیوں ہے
خلش
خواب
خواب دیکھنا
دسمبر مجھے راس آتا نہیں
دعوت فکر
دل ابھی
دھرتی کی سلگتی چھاتی سے بے چین شرارے پوچھتے ہیں
دھن
دوام وصل کا خواب
دیواروں کا جنگل جس کا آبادی ہے نام
دیوالی
seek-warrow-warrow-eseek-e1 - 100 of 238 items