aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "qadro.n"
احمد کامران
شاعر
کامران عادل
کامران غنی صبا
کامران نفیس
کامران حامد
جیلانی کامران
1926 - 2003
کامران جان مشتری
یوسف کامران
1938 - 1984
دفتر لجنۃ اماء اللہ، قادیان
ناشر
سرور کامران
کامران ندیم
d.2015
مکتبہ کامران، کراچی
محمود حسن کامران
مصنف
ڈاکٹر غلام قادرلون
کتب خانہ قادریہ، سدھارتھ نگر، اتر پردیش
اٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیںفقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
سکوت چھایا ہے انسانیت کی قدروں پریہی ہے موقع اظہار آؤ سچ بولیں
میں وراثت میں ملا تھا مرے نا قدروں کویعنی ممکن نہیں مل پائیں نشانات مرے
ایک ہم قدروں کی پامالی سے رہتے تھے ملولشکر ہے یاروں کو ایسی کوئی بیماری نہ تھی
علم ہے انساں کی تہذیب و تمدن کے لئےیہ نہیں انسانی قدروں کے تلون کے لئے
क़द्रोंقدروں
values
क़द्रेंقدریں
Norms, values
غالب کی تہذیبی شخصیت
شاعری تنقید
رشید احمد صدیقی : شخصیت اور ادبی قدر و قیمت
ابوالکلام قاسمی
مقالات/مضامین
تنقید کا نیا پس منظر
تنقید
قومی زبان اور علاقائی زبانوں کا رشتہ
فیض احمد فیض
عامرہ خاتون
قدرداں حیدرآباد
داؤد اشرف
اکیلے سفر کا اکیلا مسافر
نظم
قلم کاروں کی خوش کلامیاں
نارنگ ساقی
طنز و مزاح
مہاراشٹر کی تہذیبی اور ادبی قدریں
بدیع الزماں خاور
نقش کف پا
تذکرۂ خانواۂ قادریہ
عبدالعلیم قادری مجیدی
تذکرہ
مرقع کہروڑ
احمد سلیم
قدر و نظر
اختر اورینوی
قبروں کے غیبی نوشتے
خواجہ حسن نظامی
شمارہ نمبر۔005,006
اختر انصاری اکبرآبادی
نئی قدریں
مجھ کو قدروں کے بدلنے سے یہ ہوگا فائدہمیرے جتنے عیب ہیں سارے ہنر ہو جائیں گے
ہم اپنی ڈوبتی قدروں کے ساتھ ڈوب گئےملے گی اب تو کتابوں میں بس ہماری مثال
کسی کو قدر نہیں ہے ہماری قدروں کیچلو کہ آج یہ قدریں سبھی بدلتے ہیں
کون پہچانے مجھے شب بھر تو خطروں میں رہاوہ اندھیرا ہوں جو دن بھر بند کمروں میں رہا
ایسا انداز غزل ہو کہ زمانے میں ظفرؔدور آئندہ کی قدروں کا نشاں ہو جاؤں
قدروں کا یہ زوال یہ کج فہمیوں کا دورسب با ہنر ہوئے ہیں ہنر کے بغیر بھی
ابھی ہے وقت سنبھالو سماج کو لوگوتمام قدروں کا ڈھہنا کوئی مذاق نہیں
اقبال نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’جب شاعر کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں تو سماج کی آنکھیں بند ہوتی ہیں اور جب شاعر کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں تو سماج کی آنکھیں کھلتی ہیں۔‘‘ میں یہ قول ایک کلیے کی طرح نہیں دہرا رہا ہوں، بلکہ صرف اس بات پر زور دیناہے کہ شاعر یا ادیب جن قدروں کی علم برداری کرتا ہے، وہ ضروری نہیں کہ رائج قدریں ہوں، ان قدروں کا اعتراف اس کے ب...
اپنے لہو کی بھینٹ چڑھانے کے بعد بھیقدروں کی ہر فصیل تک آنا محال ہے
بدلتی قدروں میں کچھ ہوں کہ کچھ نہیں ملاؔسوالیہ سا نشاں ہوں خود اپنے نام کے بعد
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books