aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aflaakii"
دانستہ ہم نے اپنے سبھی غم چھپا لیےپوچھا کسی نے حال تو بس مسکرا دئیے
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کامآفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
کیا تجھے علم نہیں تیری رضا کی خاطرمیں نے کس کس کو زمانے میں خفا رکھا ہے
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گاوہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
چلا تھا میں تو سمندر کی تشنگی لے کرملا یہ کیسا سرابوں کا سلسلہ مجھ کو
مذہب کی خرابی ہے نہ اخلاق کی پستیدنیا کے مصائب کا سبب اور ہی کچھ ہے
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
کسی کے لمس کی تاثیر ہے کہ برسوں بعدمری کتابوں میں اب بھی گلاب جاگتے ہیں
جنہیں اب گردش افلاک پیدا کر نہیں سکتیکچھ ایسی ہستیاں بھی دفن ہیں گور غریباں میں
پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالےپھر کسی آنکھ کے نقطے میں اتارا جاؤں
موت آ جائے وبا میں یہ الگ بات مگرہم ترے ہجر میں ناغہ تو نہیں کر سکتے
یہ کیسی جگہ ہے کہ دل کھو رہا ہےبیاباں ہے صحرا ہے گلشن ہے کیا ہے
وہ آگ بجھی تو ہمیں موسم نے جھنجھوڑاورنہ یہی لگتا تھا کہ سردی نہیں آئی
زبان حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہےمٹایا گردش افلاک نے جاہ و حشم میرا
دیوانہ وار ناچیے ہنسئے گلوں کے ساتھکانٹے اگر ملیں تو جگر میں چبھوئیے
وہ آئے جاتا ہے کب سے پر آ نہیں جاتاوہی صدائے قدم کا ہے سلسلہ کہ جو تھا
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامتاسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
سرد ٹھٹھری ہوئی لپٹی ہوئی صرصر کی طرحزندگی مجھ سے ملی پچھلے دسمبر کی طرح
بارشیں اس کا لب و لہجہ پہن لیتی تھیںشور کرتی تھی وہ برسات میں جھانجھر کی طرح
جنگ افلاس اور غلامی سےامن بہتر نظام کی خاطر
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books