aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "aflaakii"
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہیں افلاکیرومی ہے نہ شامی ہے کاشی نہ سمرقندی
اس میں شامل ہے بوئے افلاکییہ ہوا آ رہی ہے کس بن سے
کب تک رہے محکومئ انجم میں مری خاکیا میں نہیں یا گردش افلاک نہیں ہے
میں اور فقط اسی کی خواہشاخلاق میں جھوٹ بولتا ہوں
افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخرکرتے ہیں خطاب آخر اٹھتے ہیں حجاب آخر
آفاق کی منزل سے گیا کون سلامتاسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہےیہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گاوہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
گردش چشم ساقیٔ دوراںدور افلاک کی بھی پانی ہے
بس ایک تحفۂ افلاس کے سوا ساقیؔمشقتوں نے مری اور کیا دیا ہے مجھے
میں تو دم توڑ رہا تھا مگر افسردہ حیاتخود چلی آئی مری حوصلہ افزائی کو
ذہن انسانی ادھر آفاق کی وسعت ادھرایک منظر ہے یہاں اندر کہ باہر دیکھیے
مدت سے ہے آوارۂ افلاک مرا فکرکر دے اسے اب چاند کے غاروں میں نظر بند
یہ مشت خاک یہ صرصر یہ وسعت افلاککرم ہے یا کہ ستم تیری لذت ایجاد
کون اترا ہے یہ آفاق کی پہنائی میںآئنہ خانے کی حیرت نہیں دیکھی جاتی
پھول کی پتی پتی خاک پہ بکھری ہےرنگ اڑا اڑتے اڑتے افلاک ہوا
ہماری سوچ کی پرواز کو روکے نہیں کوئینئے افلاک پہ پہرے بٹھا کر کچھ نہیں ملتا
ہمارے جام آدھی حوصلہ افزائی کر پائےاگر اس نے بھی پی ہوتی تو اس سے بات کرتے
چشم تو وسعت افلاک میں کھوئی ساغرؔدل نے اک اور جگہ ڈھونڈ لیا عید کا چاند
میں نے تو پکارا ہے محبت کے افق سےرستے میں ترے سنگ حرم ہے تو مجھے کیا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books