aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
تلاش کا نتیجہ "saamne"
ہر بار میرے سامنے آتی رہی ہو تمہر بار تم سے مل کے بچھڑتا رہا ہوں میںتم کون ہو یہ خود بھی نہیں جانتی ہو تممیں کون ہوں یہ خود بھی نہیں جانتا ہوں میںتم مجھ کو جان کر ہی پڑی ہو عذاب میںاور اس طرح خود اپنی سزا بن گیا ہوں میں
جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیامرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیاتمہاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیایہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنےسیکڑوں سلطان جابر ہیں نظر کے سامنےسیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنےاے غم دل کیا کروں اے وحشت دل کیا کروں
سنو زریونؔ تم تو عین اعیان حقیقت ہونظر سے دور منظر کا سر و سامان ثروت ہوہماری عمر کا قصہ حساب اندوز آنی ہےزمانی زد میں ظن کی اک گمان لازمانی ہےگماں یہ ہے کہ باقی ہے بقا ہر آن فانی ہےکہانی سننے والے جو بھی ہیں وہ خود کہانی ہیںکہانی کہنے والا اک کہانی کی کہانی ہےپیا پے یہ گدازش یہ گماں اور یہ گلے کیسےصلہ سوزی تو میرا فن ہے پھر اس کے صلے کیسے
تم اہل حرف کہ پندار کے ثناگر تھےوہ آسمان ہنر کے نجوم سامنے ہیںبس اک مصاحب دربار کے اشارے پرگداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں
یہ کس طرح یاد آ رہی ہو یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوکہ جیسے سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہویہ جسم نازک، یہ نرم باہیں، حسین گردن، سڈول بازوشگفتہ چہرہ، سلونی رنگت، گھنیرا جوڑا، سیاہ گیسونشیلی آنکھیں، رسیلی چتون، دراز پلکیں، مہین ابروتمام شوخی، تمام بجلی، تمام مستی، تمام جادوہزاروں جادو جگا رہی ہویہ خواب کیسا دکھا رہی ہو
ہوا خیمہ زن کاروان بہارارم بن گیا دامن کوہسارگل و نرگس و سوسن و نسترنشہید ازل لالہ خونیں کفنجہاں چھپ گیا پردۂ رنگ میںلہو کی ہے گردش رگ سنگ میںفضا نیلی نیلی ہوا میں سرورٹھہرتے نہیں آشیاں میں طیوروہ جوئے کہستاں اچکتی ہوئیاٹکتی لچکتی سرکتی ہوئیاچھلتی پھسلتی سنبھلتی ہوئیبڑے پیچ کھا کر نکلتی ہوئیرکے جب تو سل چیر دیتی ہے یہپہاڑوں کے دل چیر دیتی ہے یہذرا دیکھ اے ساقیٔ لالہ فامسناتی ہے یہ زندگی کا پیامپلا دے مجھے وہ مئے پردہ سوزکہ آتی نہیں فصل گل روز روزوہ مے جس سے روشن ضمیر حیاتوہ مے جس سے ہے مستی کائناتوہ مے جس میں ہے سوز و ساز ازلوہ مے جس سے کھلتا ہے راز ازلاٹھا ساقیا پردہ اس راز سےلڑا دے ممولے کو شہباز سےزمانے کے انداز بدلے گئےنیا راگ ہے ساز بدلے گئےہوا اس طرح فاش راز فرنگکہ حیرت میں ہے شیشہ باز فرنگپرانی سیاست گری خوار ہےزمیں میر و سلطاں سے بے زار ہےگیا دور سرمایہ داری گیاتماشا دکھا کر مداری گیاگراں خواب چینی سنبھلنے لگےہمالہ کے چشمے ابلنے لگےدل طور سینا و فاران دو نیمتجلی کا پھر منتظر ہے کلیممسلماں ہے توحید میں گرم جوشمگر دل ابھی تک ہے زنار پوشتمدن تصوف شریعت کلامبتان عجم کے پجاری تمامحقیقت خرافات میں کھو گئییہ امت روایات میں کھو گئیلبھاتا ہے دل کو کلام خطیبمگر لذت شوق سے بے نصیببیاں اس کا منطق سے سلجھا ہوالغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہواوہ صوفی کہ تھا خدمت حق میں مردمحبت میں یکتا حمیت میں فردعجم کے خیالات میں کھو گیایہ سالک مقامات میں کھو گیابجھی عشق کی آگ اندھیر ہےمسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہےشراب کہن پھر پلا ساقیاوہی جام گردش میں لا ساقیامجھے عشق کے پر لگا کر اڑامری خاک جگنو بنا کر اڑاخرد کو غلامی سے آزاد کرجوانوں کو پیروں کا استاد کرہری شاخ ملت ترے نم سے ہےنفس اس بدن میں ترے دم سے ہےتڑپنے پھڑکنے کی توفیق دےدل مرتضی سوز صدیق دےجگر سے وہی تیر پھر پار کرتمنا کو سینوں میں بیدار کرترے آسمانوں کے تاروں کی خیرزمینوں کے شب زندہ داروں کی خیرجوانوں کو سوز جگر بخش دےمرا عشق میری نظر بخش دےمری ناؤ گرداب سے پار کریہ ثابت ہے تو اس کو سیار کربتا مجھ کو اسرار مرگ و حیاتکہ تیری نگاہوں میں ہے کائناتمرے دیدۂ تر کی بے خوابیاںمرے دل کی پوشیدہ بیتابیاںمرے نالۂ نیم شب کا نیازمری خلوت و انجمن کا گدازامنگیں مری آرزوئیں مریامیدیں مری جستجوئیں مریمری فطرت آئینۂ روزگارغزالان افکار کا مرغزارمرا دل مری رزم گاہ حیاتگمانوں کے لشکر یقیں کا ثباتیہی کچھ ہے ساقی متاع فقیراسی سے فقیری میں ہوں میں امیرمرے قافلے میں لٹا دے اسےلٹا دے ٹھکانے لگا دے اسےدما دم رواں ہے یم زندگیہر اک شے سے پیدا رم زندگیاسی سے ہوئی ہے بدن کی نمودکہ شعلے میں پوشیدہ ہے موج دودگراں گرچہ ہے صحبت آب و گلخوش آئی اسے محنت آب و گلیہ ثابت بھی ہے اور سیار بھیعناصر کے پھندوں سے بے زار بھییہ وحدت ہے کثرت میں ہر دم اسیرمگر ہر کہیں بے چگوں بے نظیریہ عالم یہ بت خانۂ شش جہاتاسی نے تراشا ہے یہ سومناتپسند اس کو تکرار کی خو نہیںکہ تو میں نہیں اور میں تو نہیںمن و تو سے ہے انجمن آفریںمگر عین محفل میں خلوت نشیںچمک اس کی بجلی میں تارے میں ہےیہ چاندی میں سونے میں پارے میں ہےاسی کے بیاباں اسی کے ببولاسی کے ہیں کانٹے اسی کے ہیں پھولکہیں اس کی طاقت سے کہسار چورکہیں اس کے پھندے میں جبریل و حورکہیں جزہ ہے شاہین سیماب رنگلہو سے چکوروں کے آلودہ چنگکبوتر کہیں آشیانے سے دورپھڑکتا ہوا جال میں ناصبورفریب نظر ہے سکون و ثباتتڑپتا ہے ہر ذرۂ کائناتٹھہرتا نہیں کاروان وجودکہ ہر لحظ ہے تازہ شان وجودسمجھتا ہے تو راز ہے زندگیفقط ذوق پرواز ہے زندگیبہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلندسفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسندسفر زندگی کے لیے برگ و سازسفر ہے حقیقت حضر ہے مجازالجھ کر سلجھنے میں لذت اسےتڑپنے پھڑکنے میں راحت اسےہوا جب اسے سامنا موت کاکٹھن تھا بڑا تھامنا موت کااتر کر جہان مکافات میںرہی زندگی موت کی گھات میںمذاق دوئی سے بنی زوج زوجاٹھی دشت و کوہسار سے فوج فوجگل اس شاخ سے ٹوٹتے بھی رہےاسی شاخ سے پھوٹتے بھی رہےسمجھتے ہیں ناداں اسے بے ثباتابھرتا ہے مٹ مٹ کے نقش حیاتبڑی تیز جولاں بڑی زود رسازل سے ابد تک رم یک نفسزمانہ کہ زنجیر ایام ہےدموں کے الٹ پھیر کا نام ہےیہ موج نفس کیا ہے تلوار ہےخودی کیا ہے تلوار کی دھار ہےخودی کیا ہے راز درون حیاتخودی کیا ہے بیداری کائناتخودی جلوہ بدمست و خلوت پسندسمندر ہے اک بوند پانی میں بنداندھیرے اجالے میں ہے تابناکمن و تو میں پیدا من و تو سے پاکازل اس کے پیچھے ابد سامنےنہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنےزمانے کے دریا میں بہتی ہوئیستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئیتجسس کی راہیں بدلتی ہوئیدما دم نگاہیں بدلتی ہوئیسبک اس کے ہاتھوں میں سنگ گراںپہاڑ اس کی ضربوں سے ریگ رواںسفر اس کا انجام و آغاز ہےیہی اس کی تقویم کا راز ہےکرن چاند میں ہے شرر سنگ میںیہ بے رنگ ہے ڈوب کر رنگ میںاسے واسطہ کیا کم و بیش سےنشیب و فراز و پس و پیش سےازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیرہوئی خاک آدم میں صورت پذیرخودی کا نشیمن ترے دل میں ہےفلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہےخودی کے نگہباں کو ہے زہر نابوہ ناں جس سے جاتی رہے اس کی آبوہی ناں ہے اس کے لیے ارجمندرہے جس سے دنیا میں گردن بلندخودی فال محمود سے درگزرخودی پر نگہ رکھ ایازی نہ کروہی سجدہ ہے لائق اہتمامکہ ہو جس سے ہر سجدہ تجھ پر حرامیہ عالم یہ ہنگامۂ رنگ و صوتیہ عالم کہ ہے زیر فرمان موتیہ عالم یہ بتخانۂ چشم و گوشجہاں زندگی ہے فقط خورد و نوشخودی کی یہ ہے منزل اولیںمسافر یہ تیرا نشیمن نہیںتری آگ اس خاک داں سے نہیںجہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیںبڑھے جا یہ کوہ گراں توڑ کرطلسم زمان و مکاں توڑ کرخودی شیر مولا جہاں اس کا صیدزمیں اس کی صید آسماں اس کا صیدجہاں اور بھی ہیں ابھی بے نمودکہ خالی نہیں ہے ضمیر وجودہر اک منتظر تیری یلغار کاتری شوخئی فکر و کردار کایہ ہے مقصد گردش روزگارکہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکارتو ہے فاتح عالم خوب و زشتتجھے کیا بتاؤں تری سر نوشتحقیقت پہ ہے جامۂ حرف تنگحقیقت ہے آئینہ گفتار زنگفروزاں ہے سینے میں شمع نفسمگر تاب گفتار رکھتی ہے بساگر یک سر موئے برتر پرمفروغ تجلی بسوزد پرم
میں جب بھیزندگی کی چلچلاتی دھوپ میں تپ کرمیں جب بھیدوسروں کے اور اپنے جھوٹ سے تھک کرمیں سب سے لڑ کے خود سے ہار کےجب بھی اس ایک کمرے میں جاتا تھاوہ ہلکے اور گہرے کتھئی رنگوں کا اک کمرہوہ بے حد مہرباں کمرہجو اپنی نرم مٹھی میں مجھے ایسے چھپا لیتا تھاجیسے کوئی ماںبچے کو آنچل میں چھپا لےپیار سے ڈانٹےیہ کیا عادت ہےجلتی دوپہر میں مارے مارے گھومتے ہو تموہ کمرہ یاد آتا ہےدبیز اور خاصا بھاریکچھ ذرا مشکل سے کھلنے والا وہ شیشم کا دروازہکہ جیسے کوئی اکھڑ باپاپنے کھردرے سینے میںشفقت کے سمندر کو چھپائے ہووہ کرسیاور اس کے ساتھ وہ جڑواں بہن اس کیوہ دونوںدوست تھیں میریوہ اک گستاخ منہ پھٹ آئینہجو دل کا اچھا تھاوہ بے ہنگم سی الماریجو کونے میں کھڑیاک بوڑھی انا کی طرحآئینے کو تنبیہ کرتی تھیوہ اک گلدانننھا سابہت شیطانان دنوں پہ ہنستا تھادریچہیا ذہانت سے بھری اک مسکراہٹاور دریچے پر جھکی وہ بیلکوئی سبز سرگوشیکتابیںطاق میں اور شیلف پرسنجیدہ استانی بنی بیٹھیںمگر سب منتظر اس بات کیمیں ان سے کچھ پوچھوںسرہانےنیند کا ساتھیتھکن کا چارہ گروہ نرم دل تکیہمیں جس کی گود میں سر رکھ کےچھت کو دیکھتا تھاچھت کی کڑیوں میںنہ جانے کتنے افسانوں کی کڑیاں تھیںوہ چھوٹی میز پراور سامنے دیوار پرآویزاں تصویریںمجھے اپنائیت سے اور یقیں سے دیکھتی تھیںمسکراتی تھیںانہیں شک بھی نہیں تھاایک دنمیں ان کو ایسے چھوڑ جاؤں گامیں اک دن یوں بھی جاؤں گاکہ پھر واپس نہ آؤں گا
شاعرساحل دریا پہ میں اک رات تھا محو نظرگوشۂ دل میں چھپائے اک جہان اضطرابشب سکوت افزا ہوا آسودہ دریا نرم سیرتھی نظر حیراں کہ یہ دریا ہے یا تصوير آبجیسے گہوارے میں سو جاتا ہے طفل شیر خوارموج مضطر تھی کہیں گہرائیوں میں مست خوابرات کے افسوں سے طائر آشیانوں میں اسیرانجم کم ضو گرفتار طلسم ماہتابدیکھتا کیا ہوں کہ وہ پيک جہاں پيما خضرجس کی پیری میں ہے مانند سحر رنگ شبابکہہ رہا ہے مجھ سے اے جويائے اسرار ازلچشم دل وا ہو تو ہے تقدیر عالم بے حجابدل میں یہ سن کر بپا ہنگامۂ محشر ہوامیں شہید جستجو تھا یوں سخن گستر ہوااے تری چشم جہاں بیں پر وہ طوفاں آشکارجن کے ہنگامے ابھی دریا میں سوتے ہیں خموشکشتئ مسکين و جان پاک و ديوار يتيمعلم موسیٰ بھی ہے ترے سامنے حیرت فروشچھوڑ کر آبادیاں رہتا ہے تو صحرا نوردزندگی تیری ہے بے روز و شب و فردا و دوشزندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہےاور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروشہو رہا ہے ایشیا کا خرقۂ دیرینہ چاکنوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پيرايہ پوشگرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگیفطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوشبیچتا ہے ہاشمی ناموس دين مصطفیٰخاک و خوں میں مل رہا ہے ترکمان سخت کوشآگ ہے اولاد ابراہیم ہے نمرود ہےکیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہےجواب خضرصحرا نوردی
نہیں منت کش تاب شنیدن داستاں میریخموشی گفتگو ہے بے زبانی ہے زباں میرییہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میںیہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میریاٹھائے کچھ ورق لالے نے کچھ نرگس نے کچھ گل نےچمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میریاڑا لی قمریوں نے طوطیوں نے عندلیبوں نےچمن والوں نے مل کر لوٹ لی طرز فغاں میریٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سےسراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میریالٰہی پھر مزہ کیا ہے یہاں دنیا میں رہنے کاحیات جاوداں میری نہ مرگ ناگہاں میریمرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کاوہ گل ہوں میں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میریدریں حسرت سرا عمریست افسون جرس دارمز فیض دل طپیدن ہا خروش بے نفس دارمریاض دہر میں نا آشنائے بزم عشرت ہوںخوشی روتی ہے جس کو میں وہ محروم مسرت ہوںمری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائیمیں حرف زیر لب شرمندۂ گوش سماعت ہوںپریشاں ہوں میں مشت خاک لیکن کچھ نہیں کھلتاسکندر ہوں کہ آئینہ ہوں یا گرد کدورت ہوںیہ سب کچھ ہے مگر ہستی مری مقصد ہے قدرت کاسراپا نور ہو جس کی حقیقت میں وہ ظلمت ہوںخزینہ ہوں چھپایا مجھ کو مشت خاک صحرا نےکسی کو کیا خبر ہے میں کہاں ہوں کس کی دولت ہوںنظر میری نہیں ممنون سیر عرصۂ ہستیمیں وہ چھوٹی سی دنیا ہوں کہ آپ اپنی ولایت ہوںنہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں نہ مستی ہوں نہ پیمانہمیں اس مے خانۂ ہستی میں ہر شے کی حقیقت ہوںمجھے راز دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہےوہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہےعطا ایسا بیاں مجھ کو ہوا رنگیں بیانوں میںکہ بام عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میںاثر یہ بھی ہے اک میرے جنون فتنہ ساماں کامرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میںرلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کوکہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میںدیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویالکھا کلک ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میںنشان برگ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیںتری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میںچھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردوں نےعنادل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میںسن اے غافل صدا میری یہ ایسی چیز ہے جس کووظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میںوطن کی فکر کر ناداں مصیبت آنے والی ہےتری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میںذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ہونے والا ہےدھرا کیا ہے بھلا عہد کہن کی داستانوں میںیہ خاموشی کہاں تک لذت فریاد پیدا کرزمیں پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میںنہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والوتمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میںیہی آئین قدرت ہے یہی اسلوب فطرت ہےجو ہے راہ عمل میں گامزن محبوب فطرت ہےہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گالہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گاجلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوز پنہاں سےتری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گامگر غنچوں کی صورت ہوں دل درد آشنا پیداچمن میں مشت خاک اپنی پریشاں کر کے چھوڑوں گاپرونا ایک ہی تسبیح میں ان بکھرے دانوں کوجو مشکل ہے تو اس مشکل کو آساں کر کے چھوڑوں گامجھے اے ہم نشیں رہنے دے شغل سینہ کاوی میںکہ میں داغ محبت کو نمایاں کر کے چھوڑوں گادکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہےتجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گاجو ہے پردوں میں پنہاں چشم بینا دیکھ لیتی ہےزمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہےکیا رفعت کی لذت سے نہ دل کو آشنا تو نےگزاری عمر پستی میں مثال نقش پا تو نےرہا دل بستۂ محفل مگر اپنی نگاہوں کوکیا بیرون محفل سے نہ حیرت آشنا تو نےفدا کرتا رہا دل کو حسینوں کی اداؤں پرمگر دیکھی نہ اس آئینے میں اپنی ادا تو نےتعصب چھوڑ ناداں دہر کے آئینہ خانے میںیہ تصویریں ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نےسراپا نالۂ بیدار سوز زندگی ہو جاسپند آسا گرہ میں باندھ رکھی ہے صدا تو نےصفائے دل کو کیا آرائش رنگ تعلق سےکف آئینہ پر باندھی ہے او ناداں حنا تو نےزمیں کیا آسماں بھی تیری کج بینی پہ روتا ہےغضب ہے سطر قرآں کو چلیپا کر دیا تو نےزباں سے گر کیا توحید کا دعویٰ تو کیا حاصلبنایا ہے بت پندار کو اپنا خدا تو نےکنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھاارے غافل جو مطلق تھا مقید کر دیا تو نےہوس بالائے منبر ہے تجھے رنگیں بیانی کینصیحت بھی تری صورت ہے اک افسانہ خوانی کیدکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کوجو تڑپاتا ہے پروانے کو رلواتا ہے شبنم کوذرا نظارہ ہی اے بو الہوس مقصد نہیں اس کابنایا ہے کسی نے کچھ سمجھ کر چشم آدم کواگر دیکھا بھی اس نے سارے عالم کو تو کیا دیکھانظر آئی نہ کچھ اپنی حقیقت جام سے جم کوشجر ہے فرقہ آرائی تعصب ہے ثمر اس کایہ وہ پھل ہے کہ جنت سے نکلواتا ہے آدم کونہ اٹھا جذبۂ خورشید سے اک برگ گل تک بھییہ رفعت کی تمنا ہے کہ لے اڑتی ہے شبنم کوپھرا کرتے نہیں مجروح الفت فکر درماں میںیہ زخمی آپ کر لیتے ہیں پیدا اپنے مرہم کومحبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہےذرا سے بیج سے پیدا ریاض طور ہوتا ہےدوا ہر دکھ کی ہے مجروح تیغ آرزو رہناعلاج زخم ہے آزاد احسان رفو رہناشراب بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میریشکست رنگ سے سیکھا ہے میں نے بن کے بو رہناتھمے کیا دیدۂ گریاں وطن کی نوحہ خوانی میںعبادت چشم شاعر کی ہے ہر دم با وضو رہنابنائیں کیا سمجھ کر شاخ گل پر آشیاں اپناچمن میں آہ کیا رہنا جو ہو بے آبرو رہناجو تو سمجھے تو آزادی ہے پوشیدہ محبت میںغلامی ہے اسیر امتیاز ما و تو رہنایہ استغنا ہے پانی میں نگوں رکھتا ہے ساغر کوتجھے بھی چاہیئے مثل حباب آبجو رہنانہ رہ اپنوں سے بے پروا اسی میں خیر ہے تیریاگر منظور ہے دنیا میں او بیگانہ خو رہناشراب روح پرور ہے محبت نوع انساں کیسکھایا اس نے مجھ کو مست بے جام و سبو رہنامحبت ہی سے پائی ہے شفا بیمار قوموں نےکیا ہے اپنے بخت خفتہ کو بیدار قوموں نےبیابان محبت دشت غربت بھی وطن بھی ہےیہ ویرانہ قفس بھی آشیانہ بھی چمن بھی ہےمحبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھیجرس بھی کارواں بھی راہبر بھی راہزن بھی ہےمرض کہتے ہیں سب اس کو یہ ہے لیکن مرض ایساچھپا جس میں علاج گردش چرخ کہن بھی ہےجلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہو جانایہ پروانہ جو سوزاں ہو تو شمع انجمن بھی ہےوہی اک حسن ہے لیکن نظر آتا ہے ہر شے میںیہ شیریں بھی ہے گویا بے ستوں بھی کوہ کن بھی ہےاجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کومرے اہل وطن کے دل میں کچھ فکر وطن بھی ہےسکوت آموز طول داستان درد ہے ورنہزباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تاب سخن بھی ہےنمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردمحکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم
جب درخت خاموش تھےاور بادل شور کر رہے تھےمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب عورتیں آگ روشن کر رہی تھیںمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب میدان سے ایک بچے کا جنازہ گزر رہا تھامیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب قیدیوں کی گاڑی عدالت کے سامنے کھڑی تھیمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب لوگ عبادت گاہوں کی طرف جا رہے تھےمیں تمہیں یاد کر رہا تھاجب دنیا میں ہر شخص کے پاس ایک نہ ایک کام تھامیں تمہیں یاد کر رہا تھا
بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاںسامنے ٹال کی نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدےگڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد وہ واہ واچند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردےایک بکری کے ممیانے کی آوازاور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے سائےایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاںچوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسےاپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
خدائے عز و جل کی نعمتوں کا معترف ہوں میںمجھے اقرار ہے اس نے زمیں کو ایسے پھیلایاکہ جیسے بستر کم خواب ہو دیبا و مخمل ہومجھے اقرار ہے یہ خیمۂ افلاک کا سایہاسی کی بخششیں ہیں اس نے سورج چاند تاروں کوفضاؤں میں سنوارا اک حد فاصل مقرر کیچٹانیں چیر کر دریا نکالے خاک اسفل سےمری تخلیق کی مجھ کو جہاں کی پاسبانی دیسمندر موتیوں مونگوں سے کانیں لعل و گوہر سےہوائیں مست کن خوشبوؤں سے معمور کر دی ہیںوہ حاکم قادر مطلق ہے یکتا اور دانا ہےاندھیرے کو اجالے سے جدا کرتا ہے خود کو میںاگر پہچانتا ہوں اس کی رحمت اور سخاوت ہےاسی نے خسروی دی ہے لئیموں کو مجھے نکبتاسی نے یاوہ گویوں کو مرا خازن بنایا ہےتونگر ہرزہ کاروں کو کیا دریوزہ گر مجھ کومگر جب جب کسی کے سامنے دامن پسارا ہےیہ لڑکا پوچھتا ہے اخترالایمان تم ہی ہو
سوچتا ہوں کہ محبت ہے جوانی کی خزاںاس نے دیکھا نہیں دنیا میں بہاروں کے سوانکہت و نور سے لبریز نظاروں کے سواسبزہ زاروں کے سوا اور ستاروں کے سواسوچتا ہوں کہ غم دل نہ سناؤں اس کوسامنے اس کے کبھی راز کو عریاں نہ کروںخلش دل سے اسے دست و گریباں نہ کروںاس کے جذبات کو میں شعلہ بداماں نہ کروںسوچتا ہوں کہ جلا دے گی محبت اس کووہ محبت کی بھلا تاب کہاں لائے گیخود تو وہ آتش جذبات میں جل جائے گیاور دنیا کو اس انجام پہ تڑپائے گیسوچتا ہوں کہ بہت سادہ و معصوم ہے وہمیں اسے واقف الفت نہ کروں
بیٹھا ہے میرے سامنے وہجانے کسی سوچ میں پڑا ہےاچھی آنکھیں ملی ہیں اس کووحشت کرنا بھی آ گیا ہےبچھ جاؤں میں اس کے راستے میںپھر بھی کیا اس سے فائدہ ہےہم دونوں ہی یہ تو جانتے ہیںوہ میرے لیے نہیں بنا ہےمیرے لیے اس کے ہاتھ کافیاس کے لیے سارا فلسفہ ہےمیری نظروں سے ہے پریشاںخود اپنی کشش سے ہی خفا ہےسب بات سمجھ رہا ہے لیکنگم سم سا مجھ کو دیکھتا ہےجیسے میلے میں کوئی بچہاپنی ماں سے بچھڑ گیا ہےاس کے سینے میں چھپ کے روؤںمیرا دل تو یہ چاہتا ہےکیسا خوش رنگ پھول ہے وہجو اس کے لبوں پہ کھل رہا ہےیا رب وہ مجھے کبھی نہ بھولےمیری تجھ سے یہی دعا ہے
ریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کارایک لمحے کو ٹھہر میں تجھے پتھر لا دوںمیں ترے سامنے انبار لگا دوں لیکنکون سے رنگ کا پتھر ترے کام آئے گاسرخ پتھر جسے دل کہتی ہے بے دل دنیایا وہ پتھرائی ہوئی آنکھ کا نیلا پتھرجس میں صدیوں کے تحیر کے پڑے ہوں ڈورےکیا تجھے روح کے پتھر کی ضرورت ہوگیجس پہ حق بات بھی پتھر کی طرح گرتی ہےاک وہ پتھر ہے جو کہلاتا ہے تہذیب سفیداس کے مرمر میں سیہ خون جھلک جاتا ہےایک انصاف کا پتھر بھی تو ہوتا ہے مگرہاتھ میں تیشۂ زر ہو تو وہ ہاتھ آتا ہےجتنے معیار ہیں اس دور کے سب پتھر ہیںجتنی اقدار ہیں اس دور کی سب پتھر ہیںسبزہ و گل بھی ہوا اور فضا بھی پتھرمیرا الہام ترا ذہن رسا بھی پتھراس زمانے میں تو ہر فن کا نشاں پتھر ہےہاتھ پتھر ہیں ترے میری زباں پتھر ہےریت سے بت نہ بنا اے مرے اچھے فن کار
آج محبت کا جنم دن ہےآج ہم اداسی کی چھری سےاپنے دل کو کاٹیں گےآج ہم اپنی پلکوں پرجلتی ہوئی موم بتی رکھ کےایک تار پر سے گزریں گےہمیں کوئی نہیں دیکھے گامگر ہم ہر بند کھڑکی کی طرفدیکھیں گےہر دروازے کے سامنے پھول رکھیں گےکسی نہ کسی بات پرہم روئیں گے اور اپنے رونے پرہم ہنسیں گےآج محبت کا جنم دن ہےآج ہم ہر درخت کے سامنے سےگزرتے ہوئےٹوپی اتار کر اسے سلام کریں گےہر بادل کو دیکھ کےہاتھ ہلائیں گےہر ستارے کا شکریہ ادا کریں گےہمارے آنسوؤں نےہمارے ہتھیلیوں کو چھلنی کر دیا ہےآج ہم اپنے دونوں ہاتھجیبوں میں ڈال کر چلیں گےاور اگلے برس تک چلتے رہیں گے
اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیمیں کہاں تک بھولوں؟زور مے تھا کہ مرے ہاتھ کی لرزش تھیکہ اس رات کوئی جام گرا ٹوٹ گیاتجھے حیرت نہ ہوئی!کہ ترے گھر کے دریچوں کے کئی شیشوں پراس سے پہلے کی بھی درزیں تھیں بہتتجھے حیرت نہ ہوئی!اے جہاں زاد،میں کوزوں کی طرف اپنے تغاروں کی طرفاب جو بغداد سے لوٹا ہوںتو میں سوچتا ہوںسوچتا ہوں تو مرے سامنے آئینہ رہیسر بازار دریچے میں سر بستر سنجاب کبھیتو مرے سامنے آئینہ رہیجس میں کچھ بھی نظر آیا نہ مجھےاپنی ہی صورت کے سوااپنی تنہائی جانکاہ کی دہشت کے سوا!لکھ رہا ہوں تجھے خطاور وہ آئینہ مرے ہاتھ میں ہےاس میں کچھ بھی نظر آتا نہیںاب ایک ہی صورت کے سوا!لکھ رہا ہوں تجھے خطاور مجھے لکھنا بھی کہاں آتا ہے؟لوح آئینہ پہ اشکوں کی پھواروں ہی سےخط کیوں نہ لکھوں؟اے جہاں زاد،نشاط اس شب بے راہ روی کیمجھے پھر لائے گی؟وقت کیا چیز ہے تو جانتی ہے؟وقت اک ایسا پتنگا ہےجو دیواروں پہ آئینوں پہپیمانوں پہ شیشوں پہمرے جام و سبو میرے تغاروں پہسدا رینگتا ہے
دنیا کے رنگ انوکھے ہیںجو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہےاور دائیں پہلو میں اک منزل کا ہے مکاں وہ خالی ہےاور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں اک داشتہ ہےاور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیںہیں اور تو سب آرام مجھے اک گیسوؤں کی خوشبو ہی نہیںفارغ ہوتا ہوں ناشتے سے اور اپنے گھر سے نکلتا ہوںدفتر کی راہ پر چلتا ہوںرستے میں شہر کی رونق ہے اک تانگہ ہے دو کاریں ہیںبچے مکتب کو جاتے ہیں اور تانگوں کی کیا بات کہوںکاریں تو چھچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوںیہ مانا ان میں شریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے مایا ہےکچھ شوخ بھی ہیں معصوم بھی ہیںلیکن رستے پر پیدل مجھ سے بد قسمت مغموم بھی ہیںتانگوں پر برق تبسم ہےباتوں کا میٹھا ترنم ہےاکساتا ہے دھیان یہ رہ رہ کر قدرت کے دل میں ترحم ہےہر چیز تو ہے موجود یہاں اک تو ہی نہیں اک تو ہی نہیںاور میری آنکھوں میں رونے کی ہمت ہی نہیں آنسو ہی نہیں
زہے قسمت ہلال عید کی صورت نظر آئیجو تھے رمضان کے بیمار ان سب نے شفا پائیپہاڑوں سے وہ اترے قافلے روزہ گزاروں کےگیا گرمی کا موسم، اور آئے دن بہاروں کےاٹھا ہوٹل کا پردہ، سامنے پردہ نشیں آئےجو چھپ کر کر رہے تھے احترام حکم دیں آئےہوئی انگور کی بیٹی سے ''مستی خان'' کی شادیکھلے در مے کدوں کے اور ملی رندوں کو آزادینوید کامرانی لا رہے ہیں ریس کے گھوڑےمسرت کے ترانے گا رہے ہیں ریس کے گھوڑےمبارک ہو کہ پھر سے ہو گیا ''ڈانس'' اور ''ڈنر'' چالوخلاص اہل نظر ہوں گے ہوا درد جگر چالونماز عید پڑھنے کے لیے سرکار آئے ہیںاور ان کے ساتھ سارے طالب دیدار آئے ہیںیہی دن اہل دل کے واسطے امید کا دن ہےتمہاری دید کا دن ہے ہماری عید کا دن ہے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
Online Treasure of Sufi and Sant Poetry
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books