بائے بائے

سعادت حسن منٹو

بائے بائے

سعادت حسن منٹو

MORE BYسعادت حسن منٹو

    کہانی کی کہانی

    کہانی ایک ایسے نوجوان کی ہے جسے کشمیر کی وادیوں میں فاطمہ نام کی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے۔ فاطمہ پہلے تو اس کا مذاق اڑاتی ہے، پھر وہ بھی اس سے محبت کرنے لگتی ہے۔ فاطمہ سے شادی کے لیے وہ لڑکا اپنے والدین کو بھی راضی کر لیتا ہے۔ مگر شادی سے پہلے اس کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ فاطمہ کی ایک دو تصویریں انہیں بھیج دے۔ علاقے میں کوئی اسٹوڈیو تو تھا نہیں۔ ایک دن اس نوجوان کا ایک دوست وہاں سے گزر رہا تھا تو اس نے اس سے فاطمہ کی تصویر لینے کے لیے کہا۔ جیسے ہی اس نے فاطمہ کو دیکھا تو وہ اسے زبردستی اپنی گاڑی میں ڈال کر فرار ہو گیا۔

    نام اس کا فاطمہ تھا ،پر سب اسے پھاتو کہتے تھے، بانہال کے درّے کے اس طرف اس کے باپ کی پن چکی تھی جو بڑا سادہ لوح معمر آدمی تھا۔

    دن بھر وہ اس پن چکی کے پاس بیٹھی رہتی۔ پہاڑ کے دامن میں چھوٹی سی جگہ تھی جس میں یہ پن چکّی لگائی گئی تھی۔ پھاتو کے باپ کو دو تین روپے روزانہ مل جاتے جو اس کے لیے کافی تھے۔ پھاتو البتہ ان کو ناکافی سمجھتی تھی اس لیے کہ اس کو بناؤ سنگھار کا شوق تھا۔ وہ چاہتی تھی کہ امیروں کی طرح زندگی بسر کرے۔

    کام کاج کچھ نہیں کرتی تھی، بس کبھی کبھی اپنے بوڑھے باپ کا ہاتھ بٹا دیتی تھی۔ اس کو آٹے سے نفرت تھی۔ اس لیے کہ وہ اڑ ڑ کر اس کی ناک میں گھس جاتا تھا۔ وہ بہت جھنجھلاتی اور باہر نکل کر کھلی ہوا میں گھومنا شروع کر دیتی، یا چناب کے کنارے جا کر اپنا منہ ہاتھ دھوتی اور عجیب قسم کی ٹھنڈک محسوس کرتی۔

    اس کو چناب سے پیار تھا، اس نے اپنی سہیلیوں سے سن رکھا تھا کہ یہ دریا عشق کا دریا ہے جہاں سوہنی مہینوال، ہیر رانجھا کا عشق مشہور ہوا۔بہت خوبصورت تھی اور بڑےمضبوط جسم کی جوان لڑکی۔ ایک پن چکی والے کی بیٹی شاندار لباس تو پہن نہیں سکتی، میلی شلوار اوپر ’پھرن‘ کرتہ۔۔۔ دوپٹہ ندارد۔

    نذیرؔ سچیت گڑھ سے لے کر بانہال تک اور بھدروا سے کشتواڑ تک خوب گھوما پھرا تھا۔ اس نے جب پہلی بار پھاتو کو دیکھا تو اسے کوئی حیرت نہ ہوئی۔ جب اس نے دیکھا کہ پھاتو کے کرتے کے نچلے تین بٹن نہیں ہیں اور اس کی جوان چھاتیاں باہر جھانک رہی ہیں۔نذیر نے اس علاقے میں ایک خاص بات نوٹ کی تھی کہ وہاں کی عورتیں ایسی قمیصیں یا کرتے پہنتی ہیں جن کے نچلے بٹن غائب ہوتے ہیں،اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ آیا یہ دانستہ ہٹا دیے جاتے ہیں یا وہاں کے دھوبی ہی ایسے ہیں جو ان کو اتار لیتے ہیں۔

    نذیر نے جب پہلی بار سیر کرتے ہوئے پھاتو کو اپنی تین کم بٹنوں والی قمیص میں دیکھا تو اس پر فریفتہ ہو گیا۔ وہ حسین تھی، ناک نقشہ بہت اچھا تھا، تعجب ہے کہ وہ میلی ہونے کے باوجود چمکتی تھی، اس کا لباس بہت گندا تھا مگر نذیر کو ایسا محسوس ہوا کہ یہی اس کی خوبصورتی کو نکھار رہا ہے۔

    نذیر وہاں ایک آوارہ گرد کی حیثیت رکھتا تھا، وہ صرف کشمیر کے دیہات دیکھنے اور ان کی سیاحت کرنے آیا تھا اور قریب قریب تین مہینے سے اِدھر اُدھر گھوم پھر رہا تھا۔ اس نے کشتواڑ دیکھا، بھدروا دیکھا، کد اور بٹوت میں کئی مہینے گزارے مگر اسے پھاتو ایسا حسن کہیں نظر نہیں آیا تھا۔ بانہال میں پن چکی کے باہر جب اس نے پھاتو کو تین بٹنوں سے بے نیاز کرتے میں دیکھا تو اس کے جی میں آیا کہ اپنی قمیص کے سارے بٹن علیحدہ کر دے اور اس کی قمیص اور پھاتو کا کرتہ آپس میں خلط ملط ہو جائیں۔ کچھ اس طرح کہ دونوں کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آئے۔

    اس سے ملنا نذیر کے لیے مشکل نہیں تھا، اس لیے کہ اس کا باپ دن بھر گندم، مکئی اور جوار پیسنے میں مشغول رہتا تھا اور وہ تھی ہنس مکھ،ہر آدمی سے کھل کر بات کرنے والی۔ بہت جلد گُھلو مٹھو ہو جاتی تھی۔ چنانچہ نذیر کو اس کی قربت حاصل کرنے میں کوئی دقّت محسوس نہ ہوئی۔ چند ہی دنوں میں اس نے اس سے راہ و رسم پیدا کر لی۔

    یہ راہ و رسم تھوڑی دیر میں محبت میں تبدیل ہو گئی، پاس ہی چناب جسے عشق کا دریا کہتے ہیں اور جس کے پانی سے پھاتو کے باپ کی پن چکی چلتی تھی، اس دریا کے کنارے بیٹھ کر نذیر اس کو اپنا دل نکال کر دکھاتا تھا جس میں سوائے محبت کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ پھاتو سنتی۔ اس لیے کہ وہ اس کے جذبات کا مذاق اڑانا چاہتی تھی۔۔۔ اصل میں وہ تھی ہی ہنسوڑ۔ ساری زندگی وہ کبھی روئی نہ تھی، اس کے ماں باپ بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ ہماری بچی بچپن میں کبھی نہیں روئی۔

    نذیر اور پھاتو میں محبت کی پینگیں بڑھتی گئیں۔ نذیر پھاتو کو دیکھتا تو اسے یوں محسوس ہوتا کہ اس نے اپنی روح کا عکس آئینے میں دیکھ لیا ہے اور پھاتو تو اس کی گرویدہ تھی اس لیے کہ وہ اس کی بڑی خاطر داری کرتا تھا۔ اس کو یہ چیز۔۔۔ جسے محبت کہتے ہیں پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی، اس لیے وہ خوش تھی۔

    بانہال میں تو کوئی اخبار ملتا نہیں تھا اس لیے نذیر کو بٹوت جانا پڑتا تھا۔ وہاں وہ دیر تک ڈاک خانہ کے اندر بیٹھا رہتا،ڈاک آتی تو اخبار پڑھ کے پن چکی پر چلا آتا۔ قریب قریب چھ میل کا فاصلہ تھا مگر نذیر اس کا کوئی خیال نہ کرتا، یہ سمجھتا کہ چلو ورزش ہی ہو گئی ہے۔جب وہ پن چکی کے پاس پہنچتا تو پھاتو کسی نہ کسی بہانے سے باہر نکل آتی اور دونوں چناب کے پاس پہنچ جاتے اور پتھروں پر بیٹھ جاتے۔

    پھاتو اس سے کہتی، ’’بخیر۔ آج کی خبریں سناؤ!‘‘

    اس کو خبریں سننے کا خبط تھا۔ نذیر اخبار کھولتا اور اس کو خبریں سنانا شروع کر دیتا۔ ان دنوں فرقہ وارانہ فسادات تھے۔ امرتسر سے یہ قصہ شروع ہوا تھا جہاں سکھوں نے مسلمانوں کے کئی محلے جلا کر راکھ کر دیے تھے۔ وہ یہ سب خبریں اس کو سناتا، وہ سکھوں کو اپنی گنوار زبان میں برا بھلا کہتی۔ نذیر خاموش رہتا۔

    ایک دن اچانک یہ خبر آئی کہ پاکستان قائم ہو گیا ہے اور ہندوستان علیحدہ ہو گیا ہے۔ نذیر کو تمام واقعات کا علم تھا مگر جب اس نے پڑھا کہ ہندوستان نے ریاست مانگرول اور ماناوادا پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے تو وہ بہت پریشان ہوا مگر اس نے اپنی اس پریشانی کو پھاتو پر ظاہر نہ ہونے دیا۔دونوں کا عشق اب بہت استوار ہو چکا تھا، اس کا علم پھاتو کے باپ کو بھی ہو گیا تھا۔ وہ خوش تھا کہ میری لڑکی ایک معزز اور شریف گھرانے میں جائے گی مگر وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیٹی سیالکوٹ نہ جائے جہاں کا نذیر رہنے والا تھا۔ اس کی یہ خواہش تھی کہ نذیر اس کے پاس رہے۔

    دولت مند کا بیٹا ہے۔ پن چکی کے پاس کافی زمین پڑی ہے، اس پر ایک چھوٹا سا مکان بنوا لے اور دونوں میاں بیوی اس میں رہیں،جب چاہا پلک جھپکتے سری نگر پہنچ گئے، وہاں ایک دو مہینے رہے، پھر واپس آ گئے، کبھی کبھار سیالکوٹ بھی چلے گئے کہ وہ بھی اتنی دور نہیں۔ پھاتو نے باپ سے مفصل گفتگو کی ،وہ اس سے بہت متاثر ہوا اور اس نے اپنی رضامندی کا اظہا ر کر دیا۔ نذیر اور پھاتو بہت خوش ہوئے، اس روز پہلی مرتبہ نذیر نے اس کے ہونٹوں کو چوما اور خود اپنے ہاتھ سے اس کے کرتے میں تین بٹن لگائے۔

    دوسرے دن نذیر نے اپنے والدین کو لکھ دیا کہ وہ شادی کر رہا ہے۔ کشمیر کی ایک دیہاتی لڑکی ہے جس سے اس کومحبت ہو گئی ہے، ایک ماہ تک خط و کتابت ہوتی رہی، آدمی روشن خیال تھے، اس لیے وہ مان گئے۔ حالانکہ وہ اپنے بیٹے کی شادی اپنے خاندان میں کرنا چاہتے تھے۔

    اس کے والد نے جو آخری خط لکھا اس میں اس خواہش کا اظہار کیاگیا تھا کہ نذیر فاطمہ کا فوٹو بھیجے تاکہ وہ اپنے رشتہ داروں کو دکھائیں۔ اس لیے کہ وہ اس کے حسن کی بڑی تعریفیں کر چکا تھا۔ لیکن بانہال جیسے دور افتادہ علاقے میں وہ پھاتو کی تصویر کیسے حاصل کرتا۔ اس کے پاس کوئی کیمرہ نہیں تھا، نہ وہاں کوئی فوٹو گرافر، بٹوت اور کُد میں بھی ان کا نام و نشان نہیں تھا۔

    اتفاق سے ایک دن سری نگر سے موٹر آئی،نذیر سڑک پر کھڑا تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا دوست رنبیر سنگھ ڈرائیو کر رہا ہے، اس نے بلند آواز میں کہا:

    ’’رنبیر یار، ٹھہرو!‘‘

    موٹر ٹھہر گئی، دونوں دوست ایک دوسرے سے گلے ملے۔ نذیر نے دیکھا کہ اس کی موٹر میں کیمرہ پڑا ہے، رولی فلیکس۔ نذیر نے اس سے کچھ دیر باتیں کیں،پھر پوچھا، ’’تمہارے کیمرے میں فلم ہے؟‘‘

    رنبیر نے ہنس کر کہا، ’’خالی کیمرہ اور خالی بندوق کس کام کی ہوتی ہے، میرے کیمرے میں سولہ ایکسپوزیر موجود ہیں۔‘‘

    نذیر نے فوراً پھاتو کو ٹھہرایا اور اپنے دوست رنبیر سے کہا، ’’یار اس کے تین چار اچھے پوز لے لو اور تم میرا خیال ہے سیالکوٹ جا رہے ہو،وہاں سے ڈیویلپ اور پرنٹ کرا کے مجھے دو دو کاپیاں بٹوت کے ڈاک خانے کی معرفت بھجوا دینا۔‘‘

    رنبیر نے بڑے غور اور دلچسپی سے پھاتو کو دیکھا۔ اس کی موٹر میں ڈوگرہ فوج کے تین چار سپاہی تھے، تھری ناٹ تھری بندوقیں لیے۔ رنبیر جو مقام فوٹو لینے کے لیے پسند کرتا یہ مسلح فوجی اس کے پیچھے پیچھے ہوتے۔ نذیر اس کے ہم راہ ہونا چاہتا تو یہ ڈوگرے اسے روک دیتے۔ کشمیر میں ہلڑ مچ رہا تھا ،اس کے متعلق نذیر کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ہندوستان اس پر قابض ہونا چاہتا ہے مگر پاکستانی اس کی مدافعت کر رہے ہیں۔ فوٹو لے کر جب نذیر کا دوست رنبیر اپنی موٹر کے پاس آیا تو اس نے نذیر کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا ،پھاتو ڈوگرے فوجیوں کی گرفت میں تھی،انھوں نے زبردستی موٹر میں ڈالا، وہ چیخی چلائی۔ نذیر کو اپنی مدد کے لیے پکارا مگر وہ عاجز تھا۔ ڈوگرے فوجی سنگینیں تانے کھڑے تھے۔

    جب موٹر اسٹارٹ ہوئی تو نذیر نے اپنے دوست رنبیر سے بڑے عاجزانہ لہجے میں کہا، ’’یار رنبیر! یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘

    رنبیر سنگھ نے جو کہ موٹر چلا رہا تھا، نذیر کے پاس سے گزرتے ہوئے ہاتھ ہلا کر صرف اتنا کہا:

    ’’بائی بائی‘‘

    مأخذ :
    • کتاب : منٹو نقوش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے