سرکنڈوں کے پیچھے

سعادت حسن منٹو

سرکنڈوں کے پیچھے

سعادت حسن منٹو

MORE BYسعادت حسن منٹو

    کہانی کی کہانی

    عورت کے متضاد رویوں کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ اس میں ایک طرف نواب ہے جو اس قدر سادہ لوح ہے کہ جب سردار اس سے پیشہ کراتی ہے تو وہ سوچتی ہے کہ جوان ہونے کے بعد ہر عورت کا یہی کام ہوتا ہے۔ دوسری طرف شاہینہ ہے جو نواب کا قتل کرکے اس کا گوشت پکا ڈالتی ہے، صرف اس بنا پر کہ ہیبت خان نے اس سے بے وفائی کی تھی اور نواب کے یہاں آنے جانے لگا تھا۔

    کون سا شہر تھا، اس کے متعلق جہاں تک میں سمجھتا ہوں، آپ کو معلوم کرنے اور مجھے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس اتنا ہی کہہ دینا کافی ہے کہ وہ جگہ جو اس کہانی سے متعلق ہے، پشاور کے مضافات میں تھی۔ سرحد کے قریب۔ اور جہاں وہ عورت تھی، اس کا گھر جھونپڑا نما تھا۔۔۔ سرکنڈوں کے پیچھے۔

    گھنی باڑھ تھی، جس کے پیچھے اس عورت کا مکان تھا، کچی مٹی کا بنا ہوا۔ چونکہ یہ باڑھ سے کچھ فاصلے پر تھا، اس لیے سرکنڈوں کے پیچھے چھپ سا گیا تھا کہ باہر کچی سڑک پر سے گزرنے والا کوئی بھی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ سرکنڈے بالکل سوکھے ہوئے تھے مگر وہ کچھ اس طرح زمین میں گڑے ہوئے تھے کہ ایک دبیز پردہ بن گیے تھے۔ معلوم نہیں اس عور ت نے خود وہاں پیوست کیے تھے یا پہلے ہی سے موجود تھے۔ بہر حال، کہنا یہ ہے کہ وہ آہنی قسم کے پردہ پوش تھے۔

    مکان کہہ لیجئے یا مٹی کا جھونپڑا، صرف چھوٹی چھوٹی تین کوٹھریاں تھیں مگر صاف ستھری۔ سامان مختصر تھا مگر اچھا۔ پچھلے کمرے میں ایک بہت بڑا نواڑی پلنگ تھا۔ اس کے ساتھ ایک طاقچہ تھا جس میں سرسوں کے تیل کا دیا رات بھر جلتا رہتا تھا۔۔۔ مگر یہ طاقچہ بھی صاف ستھرا رہتا تھا۔ اور وہ دیا بھی جس میں ہر روز نیا تیل اور بتی ڈالی جاتی تھی۔

    اب میں آپ کو اس عورت کا نام بتادوں جو اس مختصر سے مکان میں، جو سرکنڈوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا، اپنی جوان بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر تھی۔

    مختلف روایتیں ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ اس کی بیٹی نہیں تھی ایک یتیم لڑکی تھی، جس کو اس نے بچپن سے گود لے کرپال پوس کر بڑا کیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کی ناجائز لڑکی تھی۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ وہ اس کی سگی بیٹی تھی۔۔۔ حقیقت جو کچھ بھی ہے، اس کے متعلق وثوق سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ یہ کہانی پڑھنے کے بعد آپ خودبخود کوئی نہ کوئی رائے قائم کرلیجئے گا۔

    دیکھیے، میں آپ کو اس عورت کا نام بتانا بھول گیا۔۔۔ بات اصل میں یہ ہے کہ اس کا نام کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کا نام آپ کچھ بھی سمجھ لیجیے، سکینہ، مہتاب، گلشن یا کوئی اور۔ آخر نام میں کیا رکھا ہے لیکن آپ کی سہولت کی خاطر میں اسے سردار کہوں گا۔

    یہ سردار، ادھیڑ عمر کی عورت تھی۔ کسی زمانے میں یقیناخوبصورت تھی۔ اس کے سرخ و سفید گالوں پر گو کسی قدر جھریاں پڑ گئی تھیں، مگر پھر بھی وہ اپنی عمر سے کئی برس چھوٹی دکھائی دیتی تھی مگر ہمیں اس کے گالوں سے کوئی تعلق نہیں۔

    اس کی بیٹی، معلوم نہیں وہ اس کی بیٹی تھی یا نہیں، شباب کا بڑا دلکش نمونہ تھی۔ اس کے خدوخال میں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکے کہ وہ فاحشہ ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس کی ماں اس سے پیشہ کراتی تھی اور خوب دولت کما رہی تھی۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اس لڑکی کو، جس کا نام پھر آپ کی سہولت کی خاطر نواب رکھے دیتا ہوں، کو اس پیشے سے نفرت نہیں تھی۔

    اصل میں اس نے آبادی سے دور ایک ایسے مقام پر پرورش پائی تھی کہ اس کو صحیح ازدواجی زندگی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ جب سردار نے اس سے پہلا مرد بستر پر۔۔۔ نواڑی پلنگ پر متعارف کروایا تو غالباً اس نے یہ سمجھا کہ تمام لڑکیوں کی جوانی کا آغاز کچھ اسی طرح ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اپنی اس کسبیانہ زندگی سے مانوس ہوگئی تھی اور وہ مرد جو دور دور سے چل کر اس کے پاس آتے تھے اور اس کے ساتھ اس بڑے نواڑی پلنگ پر لیٹتے تھے، اس نے سمجھا تھا کہ یہی اس کی زندگی کا منتہیٰ ہے۔

    یوں تو وہ ہر لحاظ سے ایک فاحشہ عورت تھی، ان معنوں میں جن میں ہماری شریف اور مطہر عورتیں ایسی عورتوں کو دیکھتی ہیں، مگر سچ پوچھیے تو اس امر کا قطعاً احساس نہ تھا کہ وہ گناہ کی زندگی بسر کررہی ہے۔۔۔ وہ اس کے متعلق غور بھی کیسے کرسکتی تھی جب کہ اس کو اس کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔ اس کے جسم میں خلوص تھا۔ وہ ہر مرد کو جو اس کے پاس ہفتے ڈیڑھ ہفتے کے بعد طویل مسافت طے کرکے آتا تھا، اپنا آپ سپرد کردیتی تھی، اس لیے کہ وہ یہ سمجھتی تھی کہ ہر عورت کا یہی کام ہے۔ اور وہ اس مرد کی ہر آسائش، اس کے ہر آرام کا خیال رکھتی تھی۔ وہ اس کی کوئی ننھی سی تکلیف بھی برداشت نہیں کرسکتی تھی۔

    اس کو شہر کے لوگوں کے تکلفات کا علم نہیں تھا۔ وہ یہ قطعاً نہیں جانتی تھی کہ جو مرد اس کے پاس آتے ہیں، صبح سویرے اپنے دانت برش کے ساتھ صاف کرنے کے عادی ہیں اور آنکھیں کھول کر سب سے پہلے بستر میں چائے کی پیالی پیتے ہیں، پھر رفع حاجت کے لیے جاتے ہیں، مگر اس نے آہستہ آہستہ بڑے الہڑ طریقے پر ان مردوں کی عادات سے کچھ واقفیت حاصل کرلی تھی۔ پر اسے بڑی الجھن ہوتی تھی کہ سب مرد ایک طرح کے نہیں ہوتے تھے۔ کوئی صبح سویرے اٹھ کر سگریٹ مانگتا تھا، کوئی چائے اور بعض ایسے بھی ہوتے جو اٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔ کچھ ساری رات جاگتے رہتے اور صبح موٹر میں سوار ہو کر بھاگ جاتے تھے۔

    سردار بے فکر تھی۔ اس کو اپنی بیٹی پر، یا جو کچھ بھی وہ تھی، پورا اعتماد تھا کہ وہ اپنے گاہکوں کو سنبھال سکتی ہے، اس لیے وہ افیم کی ایک گولی کھا کرکھاٹ پر سوئی رہتی تھی۔ کبھی کبھار جب اس کی ضرورت پڑتی۔۔۔ مثال کے طور پر جب کسی گاہک کی طبیعت زیادہ شراب پینے کے باعث یکدم خراب ہوتی تو وہ غنودگی کے عالم میں اٹھ کر نواب کو ہدایات دے دیتی تھی کہ اس کو اچار کھلادے یا کوشش کرے کہ وہ نمک ملا گرم گرم پانی پلا کر قے کرادے اور بعد میں تھپکیاں دے کر سلا دے۔

    سردار اس معاملے میں بڑی محتاط تھی کہ جونہی گاہک آتا، وہ اس سے نواب کی فیس پہلے وصول کرکے اپنے نیفے میں محفوظ کرلیتی تھی اور اپنے مخصوص انداز میں دعائیں دے کر کہ تم آرام سے جھولے جھولو، افیم کی ایک گولی ڈبیا میں سے نکال کر منہ میں ڈال کر سو جاتی۔

    جو روپیہ آتا، اس کی مالک سردار تھی۔ لیکن جو تحفے تحائف وصول ہوتے، وہ نواب ہی کے پاس رہتے تھے۔ چونکہ اس کے پاس آنے والے لوگ دولت مند ہوتے، اس لیے وہ بڑھیا کپڑا پہنتی اور قسم قسم کے پھل اور مٹھائیاں کھاتی تھی۔

    وہ خوش تھی۔۔۔ مٹی سے لپے پتے اس مکان میں جو صرف تین چھوٹی چھوٹی کوٹھریوں پر مشتمل تھا، وہ اپنی دانست کے مطابق بڑی دلچسپ اور خوش گوار زندگی بسر کررہی تھی۔۔۔ ایک فوجی افسر نے اسے گرامو فون اور بہت سے ریکارڈلا دیے تھے۔ فرصت کے اوقات میں وہ ان کو بجا بجا کر فلمی گانے سنتی اور ان کی نقل اتارنے کی کوشش کیا کرتی تھی۔ اس کے گلے میں کوئی رس نہیں تھا مگر شاید وہ اس سے بے خبر تھی۔۔۔ سچ پوچھیے تو اس کو کسی بات کی خبر بھی نہیں تھی اور نہ اس کو اس بات کی خواہش تھی کہ وہ کسی چیز سے باخبر ہو۔ جس راستے پر وہ ڈال دی گئی تھی، اس کو اس نے قبول کرلیا تھا۔۔۔ بڑی بے خبری کے عالم میں۔

    سرکنڈوں کے اس پار کی دنیا کیسی ہے، اس کے متعلق وہ کچھ نہیں جانتی تھی سوائے اس کے کہ ایک کچی سڑک ہے جس پر ہر دوسرے تیسرے دن ایک موٹر دھول اڑاتی ہوئی آتی ہے اور رک جاتی ہے۔ ہارن بجتا ہے۔ اس کی ماں یا جو کوئی بھی وہ تھی، کھٹیا سے اٹھتی ہے اور سرکنڈوں کے پاس جا کر موٹر والے سے کہتی ہے کہ موٹر ذرا دور کھڑی کرکے اندر آ جائے۔ اور وہ اندر آجاتا ہے اور نواڑی پلنگ پر اس کے ساتھ بیٹھ کر میٹھی میٹھی باتوں میں مشغول ہو جاتا ہے۔

    اس کے ہاں آنے جانے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔ یہی پانچ چھ ہوں گے مگر یہ پانچ چھ مستقل گاہک تھے اور سردار نے کچھ ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ ان کا باہم تصادم نہ ہو۔ بڑی ہوشیار عورت تھی۔۔۔ وہ ہر گاہک کے لیے خاص دن مقرر کردیتی، اور ایسے سلیقے سے کہ کسی کو شکایت کا موقع نہ ملتاتھا۔

    اس کے علاوہ ضرورت کے وقت وہ اس کا بھی انتظام کرتی رہتی کہ نواب ماں نہ بن جائے۔ جن حالات میں نواب اپنی زندگی گزار رہی تھی، ان میں اس کا ماں بن جانا یقینی تھا مگر سردار دو ڈھائی برس سے بڑی کامیابی کے ساتھ اس قدرتی خطرے سے نبٹ رہی تھی۔

    سرکنڈوں کے پیچھے یہ سلسلہ دو ڈھائی برس سے بڑے ہموار طریقے پر چل رہا تھا۔ پولیس والوں کو بالکل علم نہیں تھا۔ بس صرف وہی لوگ جانتے تھے جو وہاں آتے تھے۔ یا پھر سردار اور اس کی بیٹی نواب، یا جو کوئی بھی وہ تھی۔

    سرکنڈوں کے پیچھے، ایک دن مٹی کے اس مکان میں ایک انقلاب برپا ہوگیا۔ ایک بہت بڑی موٹر جو غالباً ڈوج تھی وہاں آکے رکی۔ ہارن بجا۔ سردار باہر آئی تو اس نے دیکھا کوئی اجنبی ہے۔ اس نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ اجنبی نے بھی اس سے کچھ نہ کہا۔ موٹر دور کھڑی کرکے وہ اترا اور سیدھا ان کے گھر میں گھس گیا جیسے برسوں کا آنے جانے والا ہو۔

    سردار بہت سٹپٹائی، لیکن دروازے کی دہلیز پر نواب نے اس اجنبی کا بڑی پیاری مسکراہٹ سے خیر مقدم کیا اور اسے اس کمرے میں لے گئی جس میں نواڑی پلنگ تھا۔ دونوں اس پر ساتھ ساتھ بیٹھے ہی تھے کہ سردار آگئی۔۔۔ ہوشیار عورت تھی۔ اس نے دیکھا کہ اجنبی کسی دولت مند گھرانے کا آدمی ہے۔ خوش شکل ہے، صحت مند ہے۔ اس نے اندر کوٹھری میں داخل ہو کر سلام کیا اور پوچھا، ’’آپ کو ادھر کاراستہ کس نے بتایا؟‘‘

    اجنبی مسکرایا اور بڑے پیار سے نواب کے گوشت بھرے گالوں میں اپنی انگلی چبھو کرکہا، ’’اس نے؟‘‘

    نواب تڑپ کر ایک طرف ہٹ گئی، ایک ادا کے ساتھ کہا، ’’ہائیں۔۔۔ میں تو کبھی تم سے ملی بھی نہیں؟‘‘

    اجنبی کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر اور زیادہ پھیل گئی۔ ’’ہم تو کئی بار تم سے مل چکے ہیں۔‘‘

    نواب نے پوچھا، ’’کہاں۔۔۔ کب؟‘‘ حیرت کے عالم میں اس کا چھوٹا سا منہ کچھ اس طور پر وا ہوا کہ اس کے چہرے کی دلکشی میں اضافے کا موجب ہوگیا۔ اجنبی نے اس کا گدگدا ہاتھ پکڑ لیا اور سردار کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’تم یہ باتیں ابھی نہیں سمجھ سکتیں۔۔۔ اپنی ماں سے پوچھو۔‘‘

    نواب نے بڑے بھول پن کے ساتھ اپنی ماں سے پوچھا کہ یہ شخص اس سے کب اور کہاں ملا تھا۔ سردار سارا معاملہ سمجھ گئی کہ وہ لوگ جو اس کے یہاں آتے ہیں، ان میں سے کسی نے اس کے ساتھ نواب کا ذکر کیا ہوگا اور سارا اتا پتا بتا دیا ہوگا چنانچہ اس نے نواب سے کہا، ’’میں بتادوں گی تمہیں۔‘‘ اور یہ کہہ کروہ باہر چلی گئی۔ کھٹیا پر بیٹھ کر اس نے ڈبیا میں سے افیم کی گولی نکالی اور لیٹ گئی۔ وہ مطمئن تھی کہ آدمی اچھا ہے گڑ بڑ نہیں کرے گا۔

    وثوق سے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن اغلب یہی ہے کہ اجنبی جس کا نام ہیبت خان تھا اور ضلع ہزارہ کا بہت بڑارئیس تھا، نواب کے الہڑ پن سے اس قدر متاثر ہوا کہ اس نے رخصت ہوتے وقت سردار سے کہا کہ آئندہ نواب کے پاس اور کوئی نہ آیا کرے۔ سردار ہوشیار عورت تھی۔ اس نے ہیبت خان سے کہا، ’’خان صاحب! یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔ کیا آپ اتنا روپیہ دے سکیں گے کہ۔۔۔‘‘

    ہیبت خان نے سردار کی بات کاٹ کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور سو سو کے نوٹوں کی ایک موٹی گڈی نکالی اور نواب کے قدموں میں پھینک دی۔ پھر اس نے اپنی ہیرے کی انگوٹھی انگلی سے نکالی اور نواب کو پہنا کر تیزی سے سرکنڈوں کے اس پار چلا گیا۔

    نواب نے نوٹوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ بس دیر تک اپنی سجی ہوئی انگلی کودیکھتی رہی جس پر کافی بڑے ہیرے سے رنگ رنگ کی شعاعیں پھوٹ رہی تھیں۔ موٹر اسٹارٹ ہوئی اور دھول اڑاتی چلی گئی۔ اس کے بعد وہ چونکی اور سرکنڈوں کے پاس آئی، مگر اب گردوغبار کے سوا سڑک پر کچھ نہ تھا۔

    سردار نوٹوں کی گڈی اٹھا کر انھیں گن چکی تھی۔ ایک نوٹ اور ہوتا تو پورے دو ہزار تھے۔ مگر اس کو اس کا افسوس نہیں تھا۔ سارے نوٹ اس نے اپنی گھیرے دار شلوارکے نیفے میں بڑی صفائی سے اڑسے اور نواب کو چھوڑ کر اپنی کھٹیا کی طرف بڑھی اور ڈبیا میں سے افیم کی ایک بڑی گولی نکال کر اس نے منہ میں ڈالی اور بڑے اطمینان سے لیٹ گئی اور دیر تک سوتی رہی۔

    نواب بہت خوش تھی۔ بار بار اپنی اس انگلی کو دیکھتی تھی جس پر ہیرے کی انگوٹھی تھی۔۔۔ تین چار روز گزرگیے۔ اس دوران میں اس کا ایک پرانا گاہک آیا جس سے سردار نے کہہ دیا کہ پولیس کا خطرہ ہے، اس لیے اس نے یہ دھندہ بند کردیا ہے۔ یہ گاہک جو خاصا دولت مند تھا، بے نیل و مرام واپس چلا گیا۔ سردار کو ہیبت خان نے بہت متاثر کیا تھا۔ اس نے افیم کھا کر پینگ کے عالم میں سوچا تھا کہ اگر آمدن اتنی ہی رہے جتنی کہ پہلے تھی اور آدمی صرف ایک ہوتو بہت اچھا ہے۔ چنانچہ اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ باقیوں کو آہستہ آہستہ یہ کہہ کرٹرخا دے گی کہ پولیس والے اس کے پیچھے ہیں اور یہ نہیں دیکھ سکتی کہ ان کی عزت خطرے میں پڑے۔

    ہیبت خان ایک ہفتے کے بعد نمودار ہوا۔ اس دوران میں سردار دو گاہکوں کو منع کر چکی تھی کہ وہ اب ادھر کا رخ نہ کریں۔ وہ اسی شان سے آیا جس شان سے پہلے روز آیا تھا۔ آتے ہی اس نے نواب کو اپنی چھاتی کے ساتھ بھینچ لیا۔ سردار نے اس سے کوئی بات نہ کی۔ نواب اسے۔۔۔ بلکہ یوں کہیے کہ ہیبت خان اسے اس کوٹھری میں لے گیا جہاں نواڑی پلنگ تھا۔ اب کے سردار اندر نہ آئی اور اپنی کھٹیا پر افیم کی گولی کھا کر اونگھتی رہی۔

    ہیبت خان بہت محظوظ ہوا۔ اس کو نواب کا الہڑ پن اور بھی زیادہ پسند آیا۔ وہ پیشہ ور رنڈیوں کے چلتروں سے قطعاً ناواقف تھی۔ اس میں وہ گھریلو پن بھی نہیں تھا جو عام عورتوں میں ہوتا ہے۔ اس میں کوئی ایسی بات تھی جو خود اس کی اپنی تھی۔ دوسروں سے مختلف۔ وہ بستر میں اس کے ساتھ اس طرح لیٹتی تھی، جس