دعا پر شاعری

اردو شاعری کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ اس میں بہت سی ایسی لفظیات جو خالص مذہبی تناظر سے جڑی ہوئی تھیں نئے رنگ اور روپ کے ساتھ برتی گئی ہیں اور اس برتاؤ میں ان کے سابقہ تناظر کی سنجیدگی کی جگہ شگفتگی ، کھلے پن ، اور ذرا سی بذلہ سنجی نے لے لی ہے ۔ دعا کا لفظ بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے ۔ آپ اس انتخاب میں دیکھیں گے کہ کس طرح ایک عاشق معشوق کے وصال کی دعائیں کرتا ہے ، اس کی دعائیں کس طرح بے اثر ہیں ۔ کبھی وہ عشق سے تنگ آکر ترک عشق کی دعا کرتا ہے لیکن جب دل ہی نہ چاہے تو دعا میں اثر کہاں ۔ اس طرح کی اور بہت سی پرلطف صورتیں ہمارے اس انتخاب میں موجود ہیں ۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ


کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

ابھی دلوں کی طنابوں میں سختیاں ہیں بہت


ابھی ہماری دعا میں اثر نہیں آیا

باقی ہی کیا رہا ہے تجھے مانگنے کے بعد


بس اک دعا میں چھوٹ گئے ہر دعا سے ہم

بھول ہی جائیں ہم کو یہ تو نہ ہو


لوگ میرے لیے دعا نہ کریں

دعائیں مانگی ہیں ساقی نے کھول کر زلفیں


بسان دست کرم ابر دجلہ بار برس

دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں


سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی


خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ

جاتے ہو خدا حافظ ہاں اتنی گزارش ہے


جب یاد ہم آ جائیں ملنے کی دعا کرنا

کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا


کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

مانگی تھی ایک بار دعا ہم نے موت کی


شرمندہ آج تک ہیں میاں زندگی سے ہم

مجھے زندگی کی دعا دینے والے


ہنسی آ رہی ہے تری سادگی پر

ناکام ہیں اثر سے دعائیں دعا سے ہم


مجبور ہیں کہ لڑ نہیں سکتے خدا سے ہم

تکمیل آرزو سے بھی ہوتا ہے غم کبھی


ایسی دعا نہ مانگ جسے بد دعا کہیں

تو نے غارت کیا گھر بیٹھے گھر اک عالم کا


خانہ آباد ہو تیرا اے مرے خانہ خراب

اس دشمن وفا کو دعا دے رہا ہوں میں


میرا نہ ہو سکا وہ کسی کا تو ہو گیا

یہ التجا دعا یہ تمنا فضول ہے


سوکھی ندی کے پاس سمندر نہ جائے گا

زباں پہ شکوۂ بے مہریٔ خدا کیوں ہے؟


دعا تو مانگیے آتشؔ کبھی دعا کی طرح

موضوع