ترغیبی شعر

ترغیبی شاعری زندگی کی مشکل گھڑیوں میں ایک سہارے کےطور پرسامنےآتی ہے اوراسے پڑھ کرایک حوصلہ ملتا ہے ۔ یہ مشکل گھڑیاں عشق میں ہجرکی بھی ہوسکتی ہیں اورعام زندگی سے متعلق بھی ۔ یہ شاعری زندگی کے ان تمام مراحل سے گزرنے اورایک روشنی دریافت کرلینے کی قوت پیدا کرتی ہے۔


info iconمعنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آستاں بھی کوئی مل جائے گا اے ذوق نیاز


سر سلامت ہے تو سجدہ بھی ادا ہو جائے گا

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ


جس دئیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

اے ذوقؔ تکلف میں ہے تکلیف سراسر


آرام میں ہے وہ جو تکلف نہیں کرتا

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہل دل


ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا


راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

بڑھ کے طوفان کو آغوش میں لے لے اپنی


ڈوبنے والے ترے ہاتھ سے ساحل تو گیا

چراغ راہ گزر لاکھ تابناک سہی


جلا کے اپنا دیا روشنی مکان میں لا

اتنا سچ بول کہ ہونٹوں کا تبسم نہ بجھے


روشنی ختم نہ کر آگے اندھیرا ہوگا

جہاں رہے گا وہیں روشنی لٹائے گا


کسی چراغ کا اپنا مکاں نہیں ہوتا

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر


لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا


اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا

مرے ناخدا نہ گھبرا یہ نظر ہے اپنی اپنی


ترے سامنے ہے طوفاں مرے سامنے کنارا

مزاج الگ سہی ہم دونوں کیوں الگ ہوں کہ ہیں


سراب و آب میں پوشیدہ قربتیں کیا کیا

مصیبت کا پہاڑ آخر کسی دن کٹ ہی جائے گا


مجھے سر مار کر تیشے سے مر جانا نہیں آتا

نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر


پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

پیدا وہ بات کر کہ تجھے روئیں دوسرے


رونا خود اپنے حال پہ یہ زار زار کیا

ترے ماتھے پہ یہ آنچل تو بہت ہی خوب ہے لیکن


تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا

موضوع