شراب پر شاعری


معنی کے لئے لفظ پر کلک کیجئے

آخر گل اپنی صرف در مے کدہ ہوئی


پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

عدمؔ روز اجل جب قسمتیں تقسیم ہوتی تھیں


مقدر کی جگہ میں ساغر و مینا اٹھا لایا

بارش شراب عرش ہے یہ سوچ کر عدمؔ


بارش کے سب حروف کو الٹا کے پی گیا

دکھائی کیوں دل وحشی کو چشم وہ جرأتؔ


شراب اور دوانے کو تو پلا لایا

گناہ کر کے بھی ہم رند پاک صاف رہے


شراب پی تو ندامت نے آب آب کیا

خالی سہی بلا سے تسلی تو دل کو ہو


رہنے دو سامنے مرے ساغر شراب کا

کدھر سے برق چمکتی ہے دیکھیں اے واعظ


میں اپنا جام اٹھاتا ہوں تو کتاب اٹھا

مدت سے آرزو ہے خدا وہ گھڑی کرے


ہم تم پئیں جو مل کے کہیں ایک جا شراب

پیر مغاں کے پاس وہ دارو ہے جس سے ذوقؔ


نامرد مرد مرد جواں مرد ہو گیا

ساقی مجھے خمار ستائے ہے لا شراب


مرتا ہوں تشنگی سے اے ظالم پلا شراب

سب کو مارا جگرؔ کے شعروں نے


اور جگرؔ کو شراب نے مارا

شکن نہ ڈال جبیں پر شراب دیتے ہوئے


یہ مسکراتی ہوئی چیز مسکرا کے پلا

شکریہ اے گردش جام شراب


میں بھری محفل میں تنہا ہو گیا

تا مرگ مجھ سے ترک نہ ہوگی کبھی نماز


پر نشۂ شراب نے مجبور کر دیا

واعظ کی آنکھیں کھل گئیں پیتے ہی ساقیا


یہ جام مے تھا یا کوئی دریائے نور تھا

زاہد شراب پینے سے کافر ہوا میں کیوں


کیا ڈیڑھ چلو پانی میں ایمان بہہ گیا

زاہد شراب ناب ہو یا بادۂ طہور


پینے ہی پر جب آئے حرام و حلال کیا

موضوعات